Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

سے گر کر نیچے آیا۔ یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوت کشش ہے۔ اِس کے بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کا استنباط درست (valid) تھا۔ سائنسی میتھڈ الوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں ۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات 1970) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں ۔ چیزوں کا علم ، سچائیوں کا علم : Knowledge of things, knowledge of truths چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریقِ استدلال کارآمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے ۔ اِس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابلِ انطباق ہے جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔ غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی۔ وہ فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کرائٹیریئن کیا ہے : What criterion do you have to prove the existence of God. میں نے جواب دیا کہ وہی کرائٹیریئن جو آپ کے پاس اس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو (Same criterion that you have to prove (anything else اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریقِ استدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس کرائٹیریئن کو استعمال کرتے ہیں، اُسی کرائٹیریئن کو خدا کے وجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page