زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 641
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اس حسرت کے ساتھ مرا کہ وہ اپنی خواہشوں کی تکمیل نہ کرسکا۔ آج کی دنیا میں وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا اس کو پانے میں وہ ناکام رہا۔ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں جوڑا (pair) کا اصول قائم ہے۔ یہاں ہر چیز اپنا جوڑ رکھتی ہے۔ ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ یہ اصول عالمی سطح پر قائم ہے۔ زمین سے لے کر اسپیس تک ہر جگہ یہی نظام رائج ہے۔ نیگیٹیو پارٹیکل کا جوڑ پازیٹیو پارٹیکل، نباتات میں میل سیکس اور فی میل سیکس، حیوانات میں مؤنث حیوان اور مذکر حیوان، انسان میں عورت اور مرد، وغیرہ۔ جوڑا یا زوجین کا نظام تمام مخلوق میں عالمی سطح پر قائم ہے۔ اس وسیع اور کامل نظام میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ انسانی خواہشات کا ہے۔ ہر انسان خواہشات کا گہرا احساس لے کر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن ہر انسان اپنی ان خواہشات کی تکمیل کیے بغیر مر جاتا ہے۔ دنیا میں خواہش ہے مگر اس کا جوڑا، تکمیل خواہش یہاں موجود نہیں۔ یہ سوال اس دنیا میں آنے والے ہر عورت اور مرد کا سوال ہے۔ ہر پیدا ہونے والا اس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے سوال کا تشفی بخش جواب پائے وہ حسرت کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ امریکی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) نے لکھا ہے کہ ایک بار اس کے پاس امریکا کے ایک عمر رسیدہ دولت مند کا ارجنٹ مسیج آیا۔ بلی گراہم اپنے پروگرام کو ملتوی کرکے فوراً روانہ ہو گئے ۔ وہ امریکی دولت مند کے گھر پہنچا تو اس کو ایک کمرے میں لے جایا گیا۔ وہاں اس کی ملاقات امریکی دولت مند سے ہوئی۔ امریکی دولت مند نے کسی تمہید کے بغیر کہا: You see, I am an old man. Life has lost all meaning. I am ready to take a fateful leap into the unknown. Young man, can you give me a ray of hope. (The Secret of Happiness, by Billy Graham, p. 2) بلی گراہم کے پاس اس سوال کا کوئی تشفی بخش جواب نہ تھا۔ امریکی دولت مند جواب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader