زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 643
By Maulana Wahiduddin Khan
کے سفر کے دوران وہ سہولتیں حاصل نہیں ہوتیں جو منزل پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہیں۔ لیکن ہر مسافر اس کو گوارا کرتا ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ سفر کی حالت ایک وقتی حالت ہے۔ آخر کار اس کا سفر ختم ہوگا اور وہ اپنی مطلوب منزل پر پہنچ جائے گا۔ منزل پر پہنچنے کے بعد اس کو وہ سب کچھ مل جائے گا جس کو وہ چاہتا تھا لیکن سفر کے دوران وہ اُن کو حاصل نہ کرسکا۔ ہماری موجودہ زندگی بے حد مختصر مدت کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا مختصر مدت کے لیے ہونا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ دورانِ سفر کی حالت ہے، وہ منزل پر پہنچنے سے پہلے کا لمحہ ہے۔ اس بنا پر ممکن نہیں کہ موجودہ مختصر زندگی میں ہم وہ تمام چیزیں پالیں جن کو ہم پانا چاہتے ہیں۔ یہ چیزیں بلا شبہ ہم کو ملیں گی لیکن وہ منزل پر پہنچ کر ملیں گی، سفر کے درمیانی مرحلے میں وہ ہر گز ہم کو ملنے والی نہیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہماری زندگی دو مرحلوں میں تقسیم ہے ـــ موت سے پہلے کا مرحلہ اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ گویا حالت سفر کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلہ گویا منزل پر پہنچنے کا مرحلہ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو جاننا ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ہر انسان کی زندگی کو بامعنی بناتی ہے، جو ہر عورت اور مرد کو اُس مقصد سے متعارف کرتی ہے جو اس کی زندگی کو پوری طرح بامعنی بنا دے جو اس کو اطمینان کا سرمایا عطا کرے۔ زندگی کی یہ توجیہہ اس سوال سے جُڑی ہوئی ہے کہ موت کے بعد دوبارہ انسان زندہ ہوتا ہے۔ کیا موت کے بعد بھی اسی طرح زندگی ہے جس طرح موت سے پہلے ہم زندگی کا تجربہ کر رہے ہیں۔ اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اس سوال کا جواب ہم عین اُسی سائنسی طریقے کے ذریعے جان سکتے ہیں جس سائنسی طریقے سے دوسری حقیقتوں کو جانا جاتا ہے۔ حقیقتوں کو جاننے کے معاملے میں سائنٹفک متھڈ کیا ہے۔ وہ یہ نہیں ہے کہ جس بات کو جاننا ہے وہ اپنی کامل صورت میں سائنس داں کے سامنے آجائے۔ اگر یہ شرط ہو تو ساری حقیقتیں سائنسی طور پر غیر معلوم رہ جائیں۔ علم کی ترقی رُک جائے۔ حقائق کی نسبت سے انسان ہمیشہ کے لیے اندھیرے میں پڑا رہے۔ کیوں کہ کوئی بھی حقیقت اس طرح علم میں نہیں آتی کہ وہ پہاڑ کی طرح مشہور چیز کے طور پر سامنے آجائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader