زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 644
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بجائے جو ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطالعے کے دوران سائنس داں کے سامنے ایک سراغ (clue) آتا ہے۔ اس سراغ پر غور کر کے وہ ایک ایسی حقیقت تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ اس دنیا میں ہر حقیقت سراغ کی سطح پر دریافت ہوتی ہے۔ اس دنیا میں سراغ ہی تمام حقیقتوں کی دریافت کی کنجی ہے۔ مثلاً سائنس میں اس کو بطور حقیقت مان لیا گیا ہے کہ تیرہ بلین سال پہلے بگ بینک کا واقعہ پیش آیا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ زمین پر حیاتیاتی ارتقا کا واقعہ ہوا۔ اسی طرح سائنس میں یہ مان لیا گیا ہے کہ ہماری کائنات ایک پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے، وغیرہ۔ اس قسم کی حقیقتیں جو آج مسلّم حقیقت بن چکی ہیں وہ اس طرح حقیقت نہیں بنیں کہ انسان نے اس کو مشاہداتی سطح پر دیکھ لیا۔ اس کے بجائے جو کچھ ہوا وہ صرف یہ تھا کہ ایک سراغ انسان کے علم میں آیا۔ پھر اس سراغ پر غور کر کے انسانی علم ایک بڑی حقیقت تک پہنچا۔ یہ بڑی حقیقت اگرچہ دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر وہ موجود تھی۔ اس کی موجودگی کو بطور ایک واقعہ کے تسلیم کر لیا گیا۔ اگرچہ اس سلسلے میں سراغ کے سوا کوئی اور چیز انسان کے مشاہدے میں نہیں آئی تھی۔ یہی معاملہ موت کے بعد زندگی کا یا اگلے دورِ حیات کا ہے۔ اگلے دورِ حیات کے بارے میں بھی واضح سراغ (clue) موجود ہیں۔ سراغ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے تو وہ ہمیں اس یقین تک پہنچاتے ہیں کہ موت کے بعد بھی زندگی ہے۔ موت کے بعد بھی اسی طرح ایک اور مرحلہ حیات ہے جو لازمی طور پر ہر ایک کے سامنے پیش آئے گا۔ وہ سراغ کیا ہے۔ مثلاً انسان کا جسم بے شمار خلیوں (cells) پر مبنی ہے۔ یہ خلیے ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارا نظام ہضم یہ کام کرتا ہے کہ جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ خلیوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہمارا نظام ہضم گویا خلیہ ساز فیکٹری ہے۔ اس نظام کے تحت یہ ہوتا ہے کہ عملاً تقریباً ہر دس سال میں ہمارا پورا جسم بدل جاتا ہے۔ نئے خلیوں کے ساتھ مکمل طور پر ایک نیا جسم وجود میں آ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader