Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 645

By Maulana Wahiduddin Khan

گویا کہ ہمارے جسم پر بار بار "موت" طاری ہوتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کا ذہنی وجود نہیں مرا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ذہنی وجود ہی انسان کا اصل وجود ہے۔ یہ ذہنی وجود بظاہر جسمانی موت کے باوجود یکساں طور پر باقی رہتا ہے۔ یہ ایک سراغ ہے جو بتاتا ہے کہ انسان اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ابدی مخلوق ہے۔ اس کے ابدی وجود کا تھوڑا سا حصہ قبل از موت مرحلہ حیات میں ہے، اور اس کا بقیہ پورا حصہ بعد از موت مرحلہ حیات میں۔ اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان کے اندر استثنائی طور پر عدل (justice) کا تصور پایا جاتا ہے۔ انسان اپنے فطری ذہن کے تحت، یہ چاہتا ہے کہ دنیا میں عدل قائم ہو۔ یعنی اچھا عمل کرنے والوں کو اچھا انجام ملے اور بُرا عمل کرنے والوں کو بُرا انجام ملے۔ اس سراغ کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو انسانی ذہن اس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ موجودہ مرحلہ حیات چونکہ اپنی مدت کے اعتبار سے نہایت ناکافی ہے اس لیے بعد کے مرحلہ حیات میں عدل کے تقاضے کی تکمیل ہو۔ بعد کے مرحلہ حیات میں ہر انسان کو اس کے کیے کے مطابق، جزا یا سزا ملے اسی طرح اس معاملے کا ایک سراغ یہ ہے کہ انسان پیدائشی طور پر معیاری دنیا (perfect world) چاہتا ہے۔ مگر موجودہ دنیا کی محدودیت (limitations) کی بنا پر یہاں مطلوب معیاری دنیا بن نہیں پاتی۔ اس سراغ پر غور کرتے ہوئے انسانی ذہن اس دریافت تک پہنچتا ہے کہ جو معیاری دنیا قبل از موت مرحلہ حیات میں محدود حالات کی بنا پر حاصل نہ ہوسکی وہ بعد از موت مرحلہ حیات میں اپنی مطلوب معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔ اسی طرح اس معاملے میں ایک سراغ یہ ہے کہ انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جوکل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ کسی بھی دوسرے حیوان یا غیر حیوان کے اندر کل کا تصور موجود نہیں۔ اس سراغ کو لے کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ موجودہ محدود حالات میں آدمی اپنی جس مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اس کو وہ موت کے بعد آنے والے لامحدود مرحلہ حیات میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page