Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 652

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک بہت لمبی سیڑھی بنائی، پھر انھوں نے اُس سیڑھی کو دیوار کے ایک طرف کھڑا کیا اور اپنے ایک آدمی کو سیڑھی پر چڑھایا، تا کہ وہ دیوار کے اوپر تک جائے اور وہاں سے دیکھے کہ دیوار کے دوسری طرف کیا ہے۔ اس مشاہدے کے بعد وہ نیچے آ کر دیوار کے اس طرف رہنے والوں کو دیوار کے دوسری طرف کا حال بتائے۔ لیکن جب یہ آدمی لمبی سیڑھی پر چڑھ کر دیوار کے اوپر پہنچا تو دوسری طرف کی دنیا اس کو اتنی زیادہ خوب صورت معلوم ہوئی کہ وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔ اس کے بعد دیوار کے اس طرف رہنے والوں نے اپنے ایک اور آدمی کو تیار کیا اور اس کو لمبی سیڑھی کے اوپر چڑھایا، لیکن دوبارہ یہی ہوا کہ جب وہ آدمی دیوار کے اوپر پہنچا تو قہقہہ لگا کر وہ دوسری طرف کود پڑا۔ یہ تجربہ بار بار کیا جاتا رہا، لیکن ہر بار یہی ہوا کہ اوپر چڑھنے والے آدمی کو دوسری طرف کا منظر اتنا پرکشش نظر آیا کہ وہ قہقہہ لگا کر دیوار کے دوسری طرف کود پڑا۔ اس طرح دیوار کے اس طرف رہنے والوں کے لیے دیوار کے دوسری طرف کا حال بدستور نا معلوم بنا رہا۔ اس افسانوی دیوار کو اگر موت کی دیوار مانا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ انسان کی زندگی کا ایک حصہ دیوار کے اس طرف ہے، اور اس کا دوسرا حصہ دیوار کے دوسری طرف۔ دیوار کے دوسری طرف خوشیوں کی دنیا، یا دوسرے لفظوں میں، جنت کی دنیا بسی ہوئی ہے اور دیوار کے اس طرف محنت اور مشقت کی دنیا ہے، تو یہ کہانی انسانی تاریخ کے اوپر مکمل طور پر صادق آئے گی۔ یہ تمثیلی کہانی گویا کہ پوری انسانی تاریخ کی کہانی ہے۔ انسان پیدائشی طور پر اپنے لیے خوشیوں کی ایک زندگی چاہتا ہے۔ اس اعتبار سے انسان کو متلاشی مسرت حیوان (joy-seeking animal) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم انسان نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی زندگی مختلف قسم کے غم سے بھری ہوئی ہے، تو اس نے اپنے لیے ایک پرمسرت زندگی کی تلاش شروع کر دی۔ اس تلاش کا غالباً پہلا نمایاں واقعہ پہیہ (wheel) کی دریافت تھی۔ پہیے کی دریافت کے بعد تلاش مسرت کا یہ انسانی سفر شروع ہو گیا۔ اس سفر کو ایک متعین نام دینا ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page