زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 654
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک طرف ، اپنی مطلوب دنیا بنانے کے لیے انسان کے عجز کا یہ معاملہ ہے اور دوسری طرف ، اسی دنیا میں یہ منظر دکھائی دیتا ہے کہ یہاں ایک بے کثافت انڈسٹری عملاً ہزاروں سال سے مکمل طور پر قائم ہے۔ یہ فطرت (nature) کی انڈسٹری ہے۔ تہذیب ، بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ، لیکن اسی دنیا میں فطرت (nature) ایک مکمل قسم کی کثافت انڈسٹری بہت بڑے پیمانے پر بالفعل (in action) قائم کیے ہوئے ہے۔ موجودہ سیارہ زمین جس پر انسان رہتا ہے ، وہ مسلسل طور پر گردش میں ہے۔ وہ اپنے محور (axis) پر ایک ہزار میل فی گھنٹے کی رفتار سے گھوم رہا ہے۔ اسی کے ساتھ وسیع خلا میں سورج کے گرد وہ اپنے مدار (orbit) پر 19 کروڑ میل کا لمبا سفر طے کرتا ہے ، پہلا سفر 24 گھنٹے میں پورا ہوتا ہے اور دوسرا سفر ایک سال میں۔ سیارہ زمین کا یہ دو طرفہ تیز رفتار سفر مسلسل طور پر جاری ہے ، لیکن یہاں نہ کوئی شور (noise) ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔ سورج آگ اور انرجی کا بہت بڑا بھنڈار ہے۔ وہ اتنا زیادہ بڑا ہے کہ اُس سے 12 لاکھ زمینیں بن سکتی ہیں۔ وہ زمین سے 9 کروڑ 30 لاکھ میل دور رہتے ہوئے مسلسل طور پر ہم کوروشنی اور حرارت بھیج رہا ہے ، لیکن دوبارہ یہاں کسی قسم کی کوئی کثافت (pollution) مطلق موجود نہیں۔ اسی طرح نیچر میں ایک اور انڈسٹری ہے۔ یہ درختوں اور پودوں کی صورت میں قائم ہے۔ یہ انڈسٹری ایک نہایت پیچیدہ نظام کے تحت ، انسان کو مسلسل طور پر صحت بخش آکسیجن سپلائی کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہماری سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو اپنے اندر جذب کر رہی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم انڈسٹری ہے ، لیکن یہ انڈسٹری بھی شور اور کثافت جیسی نا مطلوب چیزوں سے مکمل طور پر پاک ہے۔ اسی طرح پانی کو دیکھیے ۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ بڑے بڑے سمندروں کی صورت میں ہماری زمین پر موجود ہے۔ اس ذخیرے میں تحفظاتی مادہ (preservative) کے طور پر تقریباً 10 فی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader