Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیجیے، اور پھر آپ جان لیں گے کہ خدا کا وجود بھی اُسی معیار سے ثابت ہوتا ہے، جس علمی معیار سے اِس نوعیت کی دوسری چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔ سنجیدہ اہلِ علم نے اِس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً برٹرینڈ رسل نے اعتراف کیا ہے کہ تھیالوجین عام طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، یہ طریقہ اَپنی نوعیت کے اعتبار سے پورے معنوں میں سائنسی منطق (scientific logic) پر مبنی ہے۔ اِس لیے یہ استدلال اَصولی طور پر اتنا ہی حقیقی ہے، جتنا کہ کوئی دوسرا سائنسی استدلال۔ اِس استدلال کا خلاصہ یہ ہے: Where there is design, there is designer and when designer is proved, the existence of God is also proved. اشیا کا سائنسی مطالعہ 1609 میں شروع ہوا، جب کہ اطالوی سائنس داں گلیلیو (وفات 1642) نے ابتدائی دوربین (telescope) کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔ اِس کے بعد دور بینی مشاہدے میں مزید ترقی ہوئی، یہاں تک کہ 1949 میں پیلومر آبرزرویٹری (کیلی فورنیا) قائم ہوئی جس کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر آسمانی مشاہدہ ممکن ہو گیا۔ اِس کے بعد الیکٹرانک دوربین ایجاد ہوئی جس کو 1990 میں امریکا کی ہبل آبرزرویٹری میں نصب کیا گیا۔ اِس قسم کے مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا میں بگ بینگ کا واقعہ ہوا جس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ اِس کے بعد تقریباً ایک بلین سال پہلے لٹل بینگ (little bang) ہوا جس کے ذریعے موجودہ شمسی نظام (solar (system وجود میں آیا۔ اِس کے بعد سیارۂ ارض پر واٹر بینگ (water bang) ہوا اور زمین پانی سے بھر گئی۔ اِس کے بعد زندگی اور زندگی سے متعلق تمام چیزیں پیدا ہوئیں۔ بگ بینگ کے واقعہ کے مزید مطالعے کے لیے 1989 میں امریکا کے ادارہ ناسا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page