Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 661

By Maulana Wahiduddin Khan

peace. I thought all these goals, all these accomplishments, this great career would give me peace, but it didn't, So I thought I'll change career. So I left NASA as an astronaut and went into business. Imade a lot of money but I still had no peace in my life. There was still something missing. (Charlse Duke Jr., New Delhi, February 21, 2008) یہ معاملہ صرف ڈاکٹر چارلس ڈیچوک کا نہیں، یہی موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دولت اور شہرت اور اقتدار حاصل کرنے کے مواقع بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ لوگ نہایت تیزی کے ساتھ ان چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے دوڑ رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ان چیزوں کو پانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سپر اچیورس (super achievers) کہا جاتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ تمام سپر اچیور کا کیس سپر ناکامی (super failure) کا کیس تھا۔ سب کچھ پانے کے باوجود ان لوگوں کو داخلی مسرت حاصل نہیں ہوئی۔ آخر کار وہ مایوسی کا احساس لے کر مر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانہ بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کرنے کا زمانہ ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ زمانے میں ایک نئی اصطلاح پیدا کی ہے جس کو اعلیٰ کامیابی حاصل کرنے والے (super achievers) کہا جاتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی آخر میں صرف بڑی ناکامی (super failure) بن گئی۔ اس قسم کے لوگ نئے قسم کے سنگین مسائل میں مبتلا ہو گئے۔ مثلاً مہلک بیماریاں، وغیرہ۔ انھیں نئے مسائل میں سے ایک ٹینشن (tension) یا اسٹریس (stress) ہے۔ لوگوں کے پاس دولت اور شہرت اور اقتدار سب کچھ موجود ہے، لیکن ان ظاہری کامیابیوں کے باوجود لوگ مسلسل طور پر ٹینشن اور اسٹریس میں مبتلا رہتے ہیں۔ زیادہ دولت صرف زیادہ بیماری کا سبب بن رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ ریسرچ میڈیکل سائنس میں ہورہی ہے، تاکہ نئی نئی بیماریوں کا علاج دریافت کیا جا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page