زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 662
By Maulana Wahiduddin Khan
اس صورتِ حال کے نتیجے میں ایک نیا بزنس شروع ہوگیا ہے جس کو ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کہا جاتا ہے۔ ان اداروں میں بڑے بڑے ماہرین، لوگوں کو اسٹریس سے نجات دینے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ لوگوں کا ٹینشن اور اسٹریس بدستور بڑھتا جارہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا خطرہ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، بلکہ ٹینشن اور اسٹریس کا خطرہ ہے۔ یہ صورتِ حال ہم کو قرآن کی ایک آیت کی یاد دلاتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: أَلَا بِذِکْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی، سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اسی بات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں فرمایا: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ (صحيح البخاري، حديث نمبر 6413)۔ یعنی، اے اللہ! حقیقی زندگی تو بس آخرت ہی کی زندگی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدائے برتر ہی کو اپنا سپریم کنسَرن (supreme concern) بنانے سے انسان کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اپنی پسند کی جو زندگی انسان چاہتا ہے، وہ صرف موت کے بعد کے دورِ حیات میں کسی انسان کو ملے گی۔ موت سے پہلے کے دورِ حیات میں کسی کو اپنی پسند کی زندگی ملنے والی نہیں۔ اس معاملے کا براہِ راست تعلق خالق کے کریشن پلان (creation plan of God) سے ہے۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا ہے۔ موجودہ دنیا کسی کے لیے بھی اپنی آرزوؤں کی تکمیل کی جگہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا ہر عورت اور مرد کے لیے سفر کا مرحلہ ہے، اور بعد کو آنے والی آخرت کی دنیا اس کی ابدی منزل ہے۔ آپ، بس یا ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کر رہے ہوں اور اس کے اندر آپ گھر والی سہولتیں حاصل کرنا چاہیں، تو آپ اس کو حاصل نہ کر سکیں گے۔ کیوں کہ سواری صرف سواری ہے، وہ گھر کا بدل نہیں۔ اس طرح موجودہ دنیا میں خواہشوں کی تکمیل (fulfillment) کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ جو آدمی اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتا ہو، اس کو آخرت کے لیے کام کرنا چاہیے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)۔ یعنی، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader