Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 664

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی معاملہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے کے تمام خواب آج بظاہر واقعہ بن چکے ہیں۔ قدیم زمانے کے افسانوی شہر اب بظاہر عملاً بنائے جا چکے ہیں جن کے اندر دنیا بھر میں عورت اور مرد رہ رہے ہیں۔ قدیم زمانے کی افسانوی زندگی اب بظاہر واقعہ بن چکی ہے۔ لیکن جہاں تک حقیقی خوشی کا سوال ہے، انسان آج بھی حقیقی خوشی حاصل نہ کر سکا۔ درخت کی شاخوں پر چہچہانے والی چڑیاں خوش ہوں گی لیکن انسان اب بھی خوشی سے محروم ہے۔ آج دنیا کے بازار میں ہر چیز مل سکتی ہے، مگر سکون کا سرمایہ کسی بازار میں میسر نہیں۔ اس المناک صورتِ حال کا واحد سبب ایک ہے۔ اور وہ ہے ـــــ صرف ،قبل از موت دورِ حیات (pre-death period) کو سامنے رکھ کر زندگی کو ایکسپلین کرنے کی کوشش کرنا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا ایک بعد از موت دورِ حیات (post-death period) ہے، اور اس ابدی دورِ حیات کو شامل کیے بغیر زندگی کی اطمینان بخش توجیہ کرنا ممکن نہیں۔ اصل یہ ہے کہ خالق کے کریشن پلان (creation plan) کے مطابق ،انسان کی زندگی دو دوروں میں تقسیم ہے ـــــ قبل از موت دور ، اور بعد از موت دور۔ قبل از موت دور کی مدتِ حیات گویا فصل بونے کی مدت ہے، اور بعد از موت دور کی مدتِ حیات گویا پھل حاصل کرنے کی مدت۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ فصل کے بغیر پھل نہیں اور پھل کے بغیر زراعت کی کوئی معنویت نہیں۔ انسانی زندگی کے اس معاملے کو جانے بغیر، انسانی زندگی کی اطمینان بخش توجیہ کرنا ممکن نہیں۔ قدیم شرک، جدید شرک موجودہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کے دو راستے ہیں ـــــ سیدھا راستہ اور بھٹکاؤ کا راستہ (16:9)۔ سیدھا راستہ یہ ہے کہ آدمی خالق کو اپنی زندگی میں مرکزی مقام دے، وہ خالق کو اپنا سب کچھ بنالے۔ بھٹکاؤ کا راستہ یہ ہے کہ آدمی مخلوق میں گم ہو جائے ، وہ مخلوق کی نسبت سے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنائے۔ پہلے طریقے کا نام توحید ہے، اور دوسرے طریقے کا نام شرک ہے۔ ہماری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page