زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 663
By Maulana Wahiduddin Khan
تخلیق کس لیے Creation For What 3 جنوری 2006 کی رات کو میں دہلی میں اپنی رہائش گاہ (سی-29، نظام الدین ویسٹ) میں تھا۔ رات کو پچھلے پہر میں نے ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ امریکا کے صدر جارج بش جو نئیر، میرے پاس آتے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ آپ میرے بیٹے کو پڑھادیجیے۔ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ میں ایک بڑے مکان میں ہوں۔ میں اس مکان کے اوپر کی منزل کے ایک کمرے میں جاتا ہوں۔ وہاں جارج بش کے بیٹے مغربی لباس پہنے ہوئے میرے پاس آتے ہیں۔ ان کی عمر تقریبا بارہ سال ہے۔ بیٹے نے مجھ سے پہلا سوال یہ کیا: Why was man created نیند کھلی تو میں نے اس خواب پر غور کیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ آج کی پوری دنیا کا سوال ہو ۔ آج پوری انسانیت شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سوال سے دوچار ہے۔ آج ہر انسان یہ جاننا چاہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کے آنے کا حقیقی مقصد کیا ہے۔ زندگی کیا ہے اور موت کیا۔ کائنات کے وسیع نقشے میں اس کا مقام کیا ہے۔ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنی اس مطلوب منزل تک پہنچ سکتا ہے، جو اس کے دماغ میں بسی ہوئی ہے۔ وہ دنیا جس کو جدید دنیا کہا جاتا ہے، وہ پوری بشری تاریخ کا ایک انوکھا دور ہے۔ انسان ہر زمانے میں اپنے اندر کچھ آرزوئیں لے کر پیدا ہوتا تھا۔ وہ ان آرزوؤں کو صرف اپنی کہانیوں میں ظاہر کر سکتا تھا۔ مگر ساری عمر کی کوشش کے باوجود وہ ان آرزوؤں کی تکمیل نہیں کر سکتا تھا اور محرومی کے احساس کے ساتھ مر جاتا تھا۔ موجودہ دنیا میں بظاہر ان آرزوؤں کی تکمیل کا سامان حاصل ہو چکا ہے۔ جس اڑن کھٹولے کا تصور صرف کہانیوں میں پایا جاتا تھا وہ اب ہوائی جہاز کی صورت میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔ جو عالمی کمیونی کیشن صرف افسانوی کبوتر کے ذریعے تصور ہوتا تھا وہ اب جدید کمیونی کیشن کے ذریعے ایک عملی واقعہ بن چکا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader