Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 668

By Maulana Wahiduddin Khan

کرے۔ ان عطیات میں سے ایک قسم اُن عطیات کی ہے جو براہِ راست طور پر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں۔ مثلاً ہوا اور پانی اور روشنی، وغیرہ۔ اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طور پر خدا کا عطیہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کر کے خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے اُن کو مختلف قسم کی مصنوعات میں تبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گڈس (consumer goods)_ یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ اُن کا اعتراف کرے_ لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت، انسان نے یہ کیا کہ اُس نے عطیات کو لیا، اور اُن کے معطی (giver) کو حذف کر دیا۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی: The human nature was left unaddressed. یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹنشَن اور اسٹرّیس کہا جاتا ہے، وہ براہِ راست طور پر اسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (13:28)_ یعنی، اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے: Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page