Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 669

By Maulana Wahiduddin Khan

جنّت : ایک آفاقی تصور پیراڈائز (جنّت) کا تصور تمام انسانی سماجوں میں پایا گیا ہے۔ پیراڈائز تمام عورتوں اور مردوں کا ایک عالمی خواب ہے۔ ہر انسان جو پیدا ہوتا ہے، وہ ایک خوب صورت دنیا کا تصور لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اسی کو پیراڈائز کہا گیا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک متلاشی جنت حیوان (Paradise-seeking animal) ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ پیراڈائز کا تصور ہر سماج میں اور ہر کلچر میں ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے پیراڈائز ایک عالمی لفظ ہے۔ معمولی تغیر کے ساتھ وہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ قرآن کا لفظ فردوس (18:107) بھی خود پیراڈائز ہی کی ایک معرّب (Arabicized) صورت ہے۔ ذیل میں چند زبانوں کی مثالیں درج کی جاتی ہیں، جس سے پیراڈائز کی عالمی نوعیت کا اندازہ ہوگا: Avesta : Pairidaêza Persian : Firdaus Greek : Paradeisas Latin : Paradisus French : Paradis English : Paradise Hebrew : Pardes Akkadian : Pardesu Aramaic : Pardaysa Sanskrit : Paradesha Arabic : Firdaus پیراڈائز (جنّت) کا تصور انسانی فطرت میں اتنا زیادہ پیوست ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جُدا نہیں کیا جاسکتا۔ پیراڈائز کو پانا، ہر عورت اور مرد کا مشترک خواب ہے، خواہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طور پر۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر عورت اور مرد نے عالم تصور میں ایک انتہائی خوب صورت دنیا کو پہلے سے دیکھا ہے، اور اب وہ اس دیکھی ہوئی جنّت کو عملی طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انسان کی اِس خواہش کے تحت، پیراڈائز کے تقریباً ایک درجن ماڈل بن گئے ہیں۔ ہر انسان اپنے اس معلوم ماڈل کو واقعاتی طور پر حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page