زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 670
By Maulana Wahiduddin Khan
پیراڈائزم کا مطالعہ میری پوری زندگی میں شامل رہا ہے۔ تاریخ میں پیراڈائزم کے جتنے ماڈل بنائے گئے ہیں، تقریبا اُن سب کو میں نے سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے طویل مطالعے اور تجربے کے بعد پایا ہے کہ پیراڈائزم کا صرف وہی ماڈل مطابقِ فطرت ماڈل ہے جو قرآن میں ملتا ہے۔ بقیہ تمام ماڈل یا تو فطرت سے مطابقت نہیں رکھتے، یا وہ صرف جزئی طور پر فطرت کے مطابق ہیں۔ اور یہ دونوں حالتیں اُن کو نا قابلِ قبول قرار دے دیتی ہیں۔ اس فہرست میں صرف قرآن کا ماڈل واحد قابلِ قبول ماڈل ہے۔ اسی لیے قرآن میں سچے انسانوں کی بابت یہ ارشاد ہوا ہے کہ خدا اُن کو ایسی جنت میں داخل کرے گا جس کی اْس نے انھیں خوب پہچان کرا دی ہے: وَیُدۡخِلُہُمُ الۡجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمۡ (6: 47)۔ یعنی، اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ جنت کے معروف ماڈلوں میں سے کون سا ماڈل درست ہے، اس کا معیار وہی اصول ہے جس کو اس طرح کے معاملات میں سائنس میں استعمال کیا جاتا ہے، یعنی اصولِ مطابقت (principle of corroboration)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نظریے کی صحت کو معلوم کرنے کے لیے یہ کیا جائے گا کہ اُس کو تمام متعلق (relevant) واقعات یا مظاہر کی نسبت سے جانچا جائے گا۔ اگر یہ نظریہ تمام متعلق چیزوں سے مطابقت (corroborate) کر رہا ہو تو اس کو درست مان لیا جائے گا اور اگر کوئی ایک واقعہ بھی اس نظریے سے مطابقت نہ کرے تو اس نظریے کو غلط قرار دے کر اُس کو رد کر دیا جائے گا۔ یہی واحد اصول ہے جس کی روشنی میں پیراڈائزم کے مختلف تصورات کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ اُن میں سے کون سا نظریہ درست نظریہ ہے۔ ذیل میں اِسی اصول کی روشنی میں پیراڈائزم کے مختلف ماڈلوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس مطالعے سے واضح ہو جائے گا کہ سائنٹفک طریقِ مطالعہ کے مطابق، ان میں سے کون سا ماڈل علمی طور پر قابلِ قبول ماڈل ہے۔ بدھسٹ ماڈل سب سے پہلے بْدھسٹ ماڈل (Buddhist model) کو لیجیے۔ بدھ ازم میں اگرچہ مہایانا (Mahayana) اسکول کو چھوڑ کر، بقیہ کسی اسکول میں پیراڈائزم کا لفظ استعمال نہیں کیا جاتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader