Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 672

By Maulana Wahiduddin Khan

(atonement) سے جڑا ہوا ہے، یعنی آدم کی خطا کے بعد تمام انسان پیدائشی طور پر گنہگار اور پیراڈائز سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب پیراڈائز صرف ان عورتوں اور مردوں کے لیے ہے، جو اس عقیدے کو مانیں کہ مسیح مصلوب ہو کر اُن کی طرف سے اُن کے تمام گناہوں کا کفارہ بن گئے ہیں۔ موجودہ مسیحیت کا یہ تصور بھی انسانی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پیدائشی گناہ (original sin) کا نظریہ ایک فلسفیانہ نکتہ تو ہو سکتا ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کے اعتبار سے بالکل اجنبی ہے۔ انسان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ جو شخص کوئی بُرا عمل کرے، وہی اپنے عمل کی سزا بھگتے۔ گناہ کوئی اور شخص کرے اور اس کی گنہگاری پیدائشی طور پر کسی اور شخص تک پہنچ جائے، یہ ورائشی گنہگاری (hereditary sin) ہے۔ اور ورائشی گنہگاری کا نظریہ انسانی فطرت سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ تہذیبی ماڈل اسی طرح ایک ماڈل وہ ہے جس کو تہذیبی ماڈل (civilizational model) کہا جا سکتا ہے۔ تہذیب (civilization) سے مراد ہے _ سماجی ترقی کا برتر مرحلہ : An advanced stage or system of social development. موجودہ زمانے میں جب تہذیبی ترقی یہاں تک پہنچی کہ نئی قسم کی ٹکنالوجی اور نئی قسم کی ترقی انسان کی دست رس میں آگئی، تو یہ سمجھا جانے لگا کہ اب پیراڈائز کے لیے ایک اور دنیا کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب اسی دنیا میں انسان اپنی پیراڈائز آپ بنا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان اب اس پوزیشن میں ہو گیا ہے کہ وہ اپنی پیراڈائز آپ بنا سکے ۔ لیکن جلد ہی یہ خواب منتشر ہو گیا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں پہنچ کر یہ معلوم ہوا کہ پیراڈائز کو تعمیر کرنے والی انڈسٹری اپنے آخری اسٹیج میں پہنچ کر ایک نئے قسم کا جہنم وجود میں لانے کا سبب بن رہی ہے۔ اس نئے جہنم کا نام موجودہ زمانے میں گرین ہاؤس گیس (green house gas) ہے، یعنی دنیا کا ایسی مضر گیسوں سے بھر جانا جس میں انسان کی زندگی ہی ممکن نہ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page