زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 673
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تجربے نے بتایا کہ پیراڈائز کو وجود میں لانے کے لیے بے کثافت انڈسٹری (pollution free industry) درکار ہے، اور تمام تجربات بتاتے ہیں کہ بے کثافت انڈسٹری کو وجود میں لانا انسان کے لیے سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس طرح تہذیبی جنت کا نظریہ، پیراڈائز کو وجود میں لانے سے پہلے ہی اپنی آخری ناکامی کے ساتھ ختم ہو گیا۔ بھلاوہ کلچر پیراڈائز کے معاملے میں ایک اور قسم کا تصور بہت اہم ہے۔ اس کو تمثیل کی زبان میں آسٹریچ پیراڈائز (ostrich paradise) کہا جاسکتا ہے ۔ یہ اُن لوگوں کا تصور ہے جن کے سامنے پیراڈائز کی بات کہی جائے تو وہ اپنا یہ فارمولا پیش کر دیں گے ـــ آج کی بات آج ، کل کی بات کل ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ابھی اور آج جو کچھ مل رہا ہے، اُس کو حاصل کرو۔ ایک لفظ میں اُن کا فارمولا یہ ہے: right here, right now ان کی زندگی اِس نظریے پر مبنی ہے کہ ـــ محنت سے پیسہ کماؤ اور عیش کی زندگی گزارو: work hard, party hard اِس نظریے کی صحت کو جانچنے کے لیے ہمیں اس کونتیجہ (result) کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہوگا، اور جب نتیجے کے پہلو سے اس نظریے کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں ۔ جو لوگ اس قسم کے الفاظ بولتے ہیں، وہ خود اس کا مثبت نتیجہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ بظاہر یہ خوب صورت الفاظ ہر ایک کے لیے صرف منفی نتیجہ لے کر سامنے آئے ہیں۔ اس قسم کے لوگ زیادہ پیسہ کماتے ہیں، مگر زیادہ پیسہ صرف ان کے لائف اسٹائل اور ان کی غذائی عادت (food habit) کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں شوگر، بلڈ پریشر اور کینسر جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ زیادہ پیسہ کما کر یہ لوگ اپنا اسٹریس (stress) دور کرنے کے لیے آوٹنگ پر جاتے ہیں ، لیکن جب وہ اپنی آؤٹنگ سے لوٹتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نیا مسئلہ ہالی ڈے اسٹریس (holiday stress) کی صورت میں لے کر واپس آئے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader