Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 677

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت کا سفر نومبر 1959 کا واقعہ ہے۔ آریہ سماج نے اپنی گولڈن جبلی (golden jubilee) منائی۔ اس سلسلے میں مختلف مقامات پر ان کے پروگرام ہوئے۔ بجنور (سیوہارہ) میں 29 نومبر 1959 کو ایک آل مذاہب کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں ایک سوال کا جواب دیں۔ وہ سوال یہ تھا— گیان کا آغاز کس طرح ہوا: How was the beginning of knowledge. اس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی، اس سفر میں میرے ساتھ مولانا محمد عبدالحی رام پوری (وفات 1987) بھی تھے۔ اس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہاں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ کی صورت میں چھپ چکی ہے۔ اس کانفرنس کے چیرمین مراد آباد کے ایک ہندو وکیل تھے۔ وہ خود بھی آریہ سماج کے ایک ممبر تھے۔ انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ— تمام تقریروں میں صرف ایک تقریر تھی جو موضوع سے متعلق (relevant) تھی اور وہ مولانا صاحب کی تقریر تھی۔ بقیہ تقریروں میں اصل سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ اُس وقت میں نے انگریز مصنف جولین ہکسلے (Sir Julian Sorell Huxley) (وفات 1979) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ زندگی اور کائنات کو صرف ایک حادثاتی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں اور ملین اور ملین سال تک ال ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں، تو ہو سکتا ہے کہ ان کے سیاہ کیے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شیکسپیئر کی ایک نظم (Sonnet) نکل آئے۔ اس طرح ملین اور بلین سال تک مادّے کے اندھے عمل کے دوران بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page