زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 678
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کی مثالیں یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے دی جاتی ہیں کہ اس دنیا میں زندگی کا سفر کوئی شعوری سفر نہیں، وہ صرف بے شعوری کا ایک معاملہ ہے۔ افکار کی تاریخ اتفاقی اسباب کے تحت پیش آنے والے ایک بے شعوری سفر کی کہانی ہے۔ لیکن راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر مکمل طور پر شعور کے تحت پیش آنے والا ایک سفر ہے۔ وہ ایک ابتدائی منزل سے اپنی آخری منزل کی طرف چلا جا رہا ہے۔ معرفت کا سفر انسان کی ایک شعوری ضرورت ہے۔ یہ ہر انسان کی ایک ذاتی ضرورت ہے، خواہ اس نے اس کا اعلان کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ گیان (معرفت) کے آغاز کا سوال ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے۔ میں برابر اس تلاش میں رہا ہوں کہ اس سوال کا زیادہ واضح جواب معلوم کروں۔ یہ سوال میرے ذہن میں تقریباً 40 سال تک رہا۔ حال میں انتھراپالوجی (Anthropology) کے ایک سروے میں مجھے اس کا جواب ملا۔ محققین کے مطابق، یہ جواب آرکیالوجی کے شواہد (archaeological findings) پر مبنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسٹون ایج (stone age) میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ایک دوسرے کی طرف پتھر پھینکا۔ دونوں پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اس ٹکرانے کے سبب سے وہاں اسپارکنگ (sparking) ہوئی، یعنی دونوں پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری نکلی۔ یہ ظاہر ہ دونوں آدمیوں کے لیے نیا تھا۔ اب وہ دونوں آپس کا اختلاف بھول کر وہاں بیٹھ گئے اور دو پتھروں کو آپس میں ٹکرا کر چنگاری نکالنے لگے۔ دو پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری کیوں نکلتی ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خود ان پتھروں کے اندر پہلے سے چنگاری موجود ہوتی ہے اور وہ ٹکراؤ کے وقت ان کے اندر سے نکل آتی ہے، بلکہ اس چنگاری کا سبب خارج میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ فضا میں مختلف قسم کی گیسیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہوا ان گیسوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سے ایک گیس وہ ہے جس کو ہائڈروجن (hydrogen) کہا جاتا ہے۔ ہائڈروجن ایک بھڑک اٹھنے والی گیس (inflammable gas) ہے۔ جب پتھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader