زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 685
By Maulana Wahiduddin Khan
حیثیت سے پیدا کیا گیا، پھر اس کو ایک مخصوص منصوبے کے تحت سیارہ زمین کے اوپر بسادیا گیا جو کہ تخلیق کے اعتبار سے، جنتی انسان کا یہی ٹیٹ (habitat) نہ تھا۔ اسفل سافلین سے مراد کوئی پر اسرار چیز نہیں، اس سے مراد موجودہ زمین ہے جو انسان جیسی مخلوق کا مسکن (habitat)نہیں۔ ہیبی ٹیٹ کی اہمیت ہیبی ٹیٹ کیا ہے۔ ہیبی ٹیٹ ایک ارضیاتی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد وہ جغرافی مقام ہے جو کسی حیوان یا کسی پودے کے لیے فطری طور پر موزوں ہو: Habitat: The natural abode of an animal or plant. گویا یہی ٹیٹ زمین کا وہ مخصوص علاقہ ہے جو کسی جان دار مخلوق کے لیے موزوں جائے قیام کی حیثیت رکھتا ہو، جہاں وہ حالات موجود ہوں جس میں کوئی جان دار مخلوق بھر پور طور پر نشوونما پاسکے۔ اخروی حقیقتوں کو قابل فہم بنانے کے لیے خالق نے دنیا کی زندگی میں حیوانات کے یہی ٹیٹ کا ظاہر ہ (phenomenon) قائم کیا ہے۔ حیوانات اپنے یہی ٹیٹ میں پر سکون طور پر رہتے ہیں۔ یہی ٹیٹ کے باہر ان کو سکون نہیں ملتا۔ اس کی ایک مثال مچھلی ہے۔ مچھلی ایک جان دار مخلوق ہے اور اس کا فطری یہی ٹیٹ پانی ہے۔ مچھلی پانی کے اندر پر سکون طور پر رہتی ہے، لیکن اگر مچھلی کو پانی کے باہر رکھ دیا جائے، مثلاً کسی محل میں، کسی گارڈن میں، کسی صوفہ سیٹ پر، کسی کار یا ہوائی جہاز میں تو ہر جگہ وہ تڑپتی رہے گی۔ لیکن جیسے ہی آپ اس کو دریا یا سمندر میں ڈالیں، وہ فوراً پر سکون ہو کر اس میں تیرنے لگے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مچھلی اپنی ساخت کے اعتبار سے ہوا سے آکسیجن نہیں لے سکتی۔ مچھلی کے لیے آکسیجن حاصل کرنے کا ذریعہ صرف تحلیل شدہ آکسیجن (dissolved oxygen) ہے جو پانی کے اندر فطری طور پر موجود ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا انسان کا یہی ٹیٹ نہیں۔ انسان کے خالق نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا ہے، جب کہ موجودہ دنیا اس کے مطابق نہیں۔ انسان اور اس کے رہائشی سیارہ کے درمیان اسی تباین (disparity) کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمین انسان کا فطری یہی ٹیٹ نہیں۔ انسان کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader