زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 684
By Maulana Wahiduddin Khan
سورۃ التین کا پیغام قرآن کی سورۂ التین میں اللہ کے تخلیقی منصوبے (creation plan of God) کو بتایا گیا ہے۔ اس سورہ کا متن اور ترجمہ یہ ہے: وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ وَطُورِ سِينِينَ وَهَذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ (95:1-8)۔ یعنی، قسم ہے تین کی اور زیتون کی اور طور سینا کی اور اس امن والے شہر کی۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ تو اب کیا ہے جس سے تم بدلہ ملنے کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔ قرآن کے اس بیان کے مطابق، انسان کو بہترین شخصیت کے ساتھ پیدا کیا گیا، لیکن اس کے بعد انسان کو ایک ایسی دنیا میں ڈال دیا گیا جو انسان جیسی مخلوق کے لیے اسفل سافلین کی حیثیت رکھتی تھی: We have created man in the best of mould, then We cast him down as the lowest of the low. اسفل سافلین میں ڈالنے سے کیا مراد ہے۔ اس کا جواب قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی حوا کو پیدا کرنے کے بعد پہلے جنت میں رکھا گیا۔ اس کے بعد اُن کو (اور ان کی نسلوں کو) موجودہ دنیا (planet earth) میں منتقل کر دیا گیا ۔ اس سلسلے میں آیت کے الفاظ یہ ہیں: قُلْنَا اهْبِطُوا مِنْهَا جَمِيعًا (2:38)۔ یعنی، ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے اترو (زمین پر)۔ قرآن کی ان دونوں آیتوں میں ایک گہری مشابہت ہے۔" رددنا" اور "اہبطوا" دونوں قریب المعنی الفاظ ہیں۔ اس لفظی مشابہت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسفل سافلین سے مراد یہی موجودہ زمین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو جنتی مخلوق کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader