زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 687
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں ۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان ایک عدم مطابقت (disparity) پائی جاتی ہے۔ موجودہ زمین پر انسان کی حیثیت ایک ایسے طالب کی ہے جس کا مطلوب اس کو یہاں حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمین پر پیدا ہونے والے تمام عورت اور مرد بے سکونی کی زندگی گزارتے ہیں اور اسی حال میں مر جاتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللّٰھُمَّ لا عَیْشَ اِلَّا عَیْشُ الْآخِرَة (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1805)۔ یعنی انسان کو اس کی مطلوب زندگی تو صرف آخرت میں مل سکتی ہے۔ قرآن کی اس سورہ میں اسفل سافلین کا لفظ خارجی حالات کی نسبت سے نہیں آیا ہے، بلکہ وہ انسان کی اپنی داخلی نفسیات کی نسبت سے آیا ہے، یعنی ایک ایسی مخلوق جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے، احسن تقویم ہے، اس کے لیے یہ دنیا عملاً اسفل سافلین کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ انسان کے لیے یہاں رہنا ایسا ہی ہے جیسے مچھلی کا پانی کے باہر رہنا۔ انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ایک سراغ (clue) ہے۔ وہ عدم مطابقت یہ ہے کہ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جس یہی ٹیت کا طالب ہے، زمین اس کے لیے وہ یہی ٹیت نہیں۔ یہ عدم مطابقت انسانی زندگی کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر غور کر کے انسان ایک عظیم حقیقت کو دریافت کر سکتا ہے، یعنی یہ حقیقت کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے اور اپنے آپ کو کامیاب بنانے کے لیے اس کو کیا کرنا چاہیے۔ سورہ کے اگلے الفاظ اسی بات کا جواب ہیں۔ سورہ کے اگلے الفاظ یہ ہیں: اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُونٍ (6: 95)۔ یعنی جو لوگ اللہ کے تخلیقی منصوبے کو دریافت کریں اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تشکیل کریں تو موت کے بعد وہ ایک ایسی دنیا (جنت) میں داخل کیے جائیں گے، جو ان کا مطلوب یہی ٹیت ہوگا اور اس بنا پر وہاں عدم مطابقت کا مسئلہ باقی نہ رہے گا۔ اس دنیا میں اُن کو اپنی مطلوب زندگی مل جائے گی جس کو قرآن میں غیر ممنون اجر (unending award) کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader