Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 688

By Maulana Wahiduddin Khan

اجر غیر ممنون قرآن کی اس آیت میں "أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ" کا لفظ ایک ذو معنی لفظ ہے، یعنی بلاغت کے اصول کے مطابق ، اس لفظ میں مذکور معنی کے ساتھ ایک غیر مذکور معنی بھی پوشیدہ ہے، یعنی اجر غیر ممنون کے ساتھ اجر ممنون کا تصور، یا غیر منقطع اجر کے ساتھ منقطع اجر کا تصور۔ اس آیت میں آخرت کے اجر کو غیر ممنون (غیر منقطع) اجر بتایا گیا ہے۔ یہ لفظ دنیا کے اجر کے مقابلے میں آیا ہے، کیوں کہ دنیا کا اجر ممنون (منقطع) اجر ہے اور آخرت کا اجر، غیر ممنون (غیر منقطع) اجر ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کا اجر عارضی اجر ہے اور آخرت کا اجر ابدی اجر۔ یہ فرق بے حد اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اجر کا ممنون (منقطع) اجر ہونا ہی وہ چیز ہے جو دنیا کو اسفل سافلین بنا دیتا ہے، کیوں کہ انسان کا معیار پسند ذہن معیار سے کم پر راضی نہیں ہوتا۔ انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے صرف معیار پر مطمئن ہوسکتا ہے، معیار سے کم پر مطمئن ہونا بہ اعتبار مزاج اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کا یہی مزاج ہے جو موجودہ دنیا کو اس کے لیے دار الکبد بنا دیتا ہے۔ موجودہ دنیا مطلق معنوں میں دار الکبد نہیں ہے۔ انسان کے معیار پسندانہ ذہن کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا اس کو ایک ایسی جگہ محسوس ہونے لگتی ہے جو گویا کہ اس کے لیے دار الکبد ہو۔ اللہ نے دنیا کو دار الکبد کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے، یہ انسان کا اپنا مزاج ہے جس کی بنا پر دنیا اس کو دار الکبد نظر آتی ہے۔ یہ معاملہ انسان کی نسبت سے ہے، نہ کہ تخلیق کی نسبت سے۔ سورہ کے آخر میں فرمایا: "أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ"۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں جو عدم مطابقت ہے یا طالب کو اس کا مطلوب حاصل نہیں، یہ خالق کی حکیمانہ شان کے خلاف ہے۔ لازماً ایسا ہونا چاہیے کہ خالق کی حکیمانہ شان کا ظہور ہو، اس عدم مطابقت کا خاتمہ ہو اور طالب کو اس کا مطلوب مل جائے۔ آخرت اسی شانِ خداوندی کے ظہور کا دن ہے۔ خلاصہ کلام سورہ التین میں جو بات "رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ (95:5)" (پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا) کے الفاظ میں کہی گئی ہے، وہی بات دوسری صورتوں میں دوسرے الفاظ میں کہی گئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page