کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
کہکشاں کے پر خطر درمیانی ماحول کے اثر سے بچا ہوا ہے۔ یہ استثناء واضح طور پر ایک منصوبہ بند مداخلت کا ثبوت ہے، اور منصوبہ بند مداخلت بلا شبہ خدائے برتری کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ ہمارے شمسی نظام کے اندر بہت سے سیارے (planets) پائے جاتے ہیں۔ اُنہیں میں سے ایک سیارہ وہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ دوسرے تمام سیارے اپنے مدار (orbit) پر گھومتے ہیں۔ مگر ہماری زمین اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے اپنے محور (axis) پر بھی گھومتی ہے۔ زمین کی یہ دہری گردش (double rotation) ایک انتہائی استثنائِی گردش ہے جو کسی بھی ستارے یا سیارے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ استثناء اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک ایسے برتر عامل کو تسلیم کیا جائے جس نے اپنی خصوصی مداخلت کے ذریعے یہ بامعنیٰ استثناء خلا میں قائم کر رکھا ہے۔ ہماری زمین پر استثناء کی ایک ایسی انوکھی مثال پائی جاتی ہے، جو ساری کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں، یہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ہے۔ اس لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر زمین پر انسان کا یا کسی اور نوعِ حیات کا وجود ممکن نہ تھا۔ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ استثنائِی نظام خدا کی موجودگی کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا انکار کوئی سنجیدہ انسان نہیں کر سکتا۔ البرٹ آئن سٹائن (وفات (1955) کو بیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا سائنسی دماغ مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ۔ عالمِ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے: The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. آئن سٹائن اپنے اس قول میں بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کا اقرار کر رہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہا جائے تو وہ اس طرح ہوگا کہ خدا کے بغیر عالمِ فطرت مکمل طور پر نا قابل فہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader