Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 691

By Maulana Wahiduddin Khan

فرشتوں کے سپر وژن (supervision) میں ہوتا ہے۔ فرشتے مسلسل واچ (watch) کرتے ہیں کہ کوئی انسان مختلف حالات میں کس قسم کا رسپانس (response) دے رہا ہے اور اپنے اندر کس قسم کی پرسنالٹی کی تشکیل کر رہا ہے۔ پھر جو فرد (individual) اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق ہے، اس کو عارضی نرسری سے نکال کر جنت کے ابدی باغ میں نصب کر دیا جاتا ہے، تا کہ وہ وہاں جنت کے ماحول میں فروغ پائے اور ابدی طور پر ترقی کا سفر طے کرتا رہے۔ موت وہ دن ہے جب کہ کسی فرد کو سیارہ ارض سے ٹرانسفر کر کے ابدی جنت میں پہنچادیا جائے۔ دو دنیا ئیں قرآن کی سورۃ الذاریات میں تخلیق کا ایک اصول ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49)۔ یعنی، ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔ فطرت کا یہ نظام ہے کہ یہاں تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا کی گئی ہیں۔ اسی طرح موجودہ دنیا بھی دو دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔ سیارہ ارض (planet earth) اس کا ایک جوڑا ہے۔ اس کا دوسرا جوڑا آخرت کی دنیا ہے، جہاں جنت (paradise) واقع ہے۔ جنت موجودہ دنیا کا تکمیلی حصہ (complementary part) ہے۔ جنت کے بغیر موجودہ دنیا نا قابل فہم ہے، لیکن جنت کے ساتھ وہ پوری طرح قابل فہم بن جاتی ہے۔ جنت کی نرسری خالق نے ایک عظیم دنیا بنائی۔ یہ دنیا ہر لحاظ سے آئیڈیل اور پرفیکٹ تھی۔ اس دنیا کا نام جنت ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت آدم کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی (2:35)۔ اس کے بعد خالق نے چاہا کہ وہ اُن عورتوں اور مردوں کا انتخاب کرے جو اس جنتی دنیا میں بسائے جانے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page