Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 690

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کی نرسری کسی انسان کے لیے اس دنیا میں سب سے پہلی جاننے کی چیز یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ جس ہستی نے انسان کو اور اس دنیا کو بنایا ہے، اس کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things) کیا ہے۔ قرآن خدا کی کتاب ہے۔ قرآن کے مطالعے سے جو چیز معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا نے سب سے پہلے ایک وسیع اور معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت (Paradise) ہے۔ پھر اس نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کو اس جنت میں بسایا۔ انسان کو خدا نے مکمل آزادی (freedom of choice) عطا کی۔ انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ خالق کا اعتراف کرے، وہ خود اپنے اختیار سے سلف ڈسپلنڈ (self disciplined) زندگی گزارے۔ لیکن انسان اس امتحان میں پورا نہیں اترا۔ اُس نے آزادی کا غلط استعمال کیا۔ اس کے بعد خدا نے انسان کے بارے میں دوسرا اصول مقرر کیا۔ پہلے انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں بسایا گیا تھا، لیکن جب انسان مقرر کردہ معیار پر پورا نہیں اترا تو اس کے بعد خدا نے یہ طے کیا کہ انسان کے لیے جنت کا فیصلہ انتخابی بنیاد (selective basis) پر کیا جائے، یعنی صرف اُن افراد کو جنت میں آباد کیا جائے جو سلف ڈسپلن (self discipline) کے مطلوب معیار پر پورے اتریں۔ اس مقصد کے لیے خدا نے ابدی جنت کے سوا ایک اور عارضی دنیا بنائی۔ یہ عارضی دنیا ہمارا موجودہ سیارہ ارض (planet earth) ہے۔ سیارہ ارض گویا ابدی جنت کوفیڈ (feed) کرنے کے لیے عارضی قسم کی ایک زندہ نرسری (living nursery) ہے۔ اس سیارہ ارض پر انسان گویا پودے (plants) کی مانند اگائے جاتے ہیں۔ اُن کو یہاں کے مختلف حالات میں محدود مدت کے لیے زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اس مدت میں انسان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page