Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 693

By Maulana Wahiduddin Khan

اس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن العمل (best in deeds) ہے۔ زمین کی حیثیت نرسری کی ہے، اس لیے یہاں ہر قسم کے پودے اگتے ہیں۔ لیکن جنت کی حیثیت مطلوب منزل کی ہے، اس لیے وہاں صرف وہی استثنائی افراد بسائے جائیں گے جن کو اُن کے ریکارڈ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے۔ ایک محدود مدت تک وہ اس ابتدائی دنیا میں رہتا ہے۔ اس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتے ہیں۔ یہ حالات گویا اُس کے لیے تربیتی کورس (training course) ہیں۔ یہ حالات اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے۔ موت اس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جو انسان اس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طور پر بسا دیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا۔ اس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے۔ یہاں صرف تعمیر شخصیت ممکن ہے، آئیڈیل معنوں میں تعمیر نظام یہاں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ انسانی زندگی کی یہی تعمیر صحیح تعبیر ہے۔ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں زندگی کے تمام سوالات کا قابلِ فہم جواب مل جاتا ہے: With this description of human life, everything falls into place. ایک حدیث تخلیق کا یہ منصوبہ قرآن وحدیث میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اس سلسلے کی دو روایتیں یہ ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page