Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 694

By Maulana Wahiduddin Khan

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّيَ السَّلَامَ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التَّرْبَةِ، عَذْبَةُ الْمَاءِ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ، وَأَنَّ غِرَاسَهَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 105) ۔ یعنی، حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میری ملاقات حضرت ابراہیم سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچادو۔ اور ان کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے۔ اس کا پودا سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ہے۔ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا مُحَمَّدٌ۔ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ: مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ، فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ ۔ قَالَ: وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 7966) ۔ یعنی، حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے۔ انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں۔ جبریل نے کہا کہ یہ محمد ہیں۔ حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ وہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں، کیوں کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے۔ آپ نے پوچھا کہ جنت کا پودا کیا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ مذکورہ روایات میں جنت کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ـــ قيعان اور ارض واسعہ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے، یعنی وسیع اور ہموار زمین۔ یہ تمثیل کی زبان میں جنت کی اصل حقیقت کا بیان ہے۔ اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایک اعلیٰ مخلوق پیدا کرے اور پھر اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page