Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 702

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق، یہ دنیا ایک جوڑ دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے۔ ایک دنیا دوسری دنیا کا تکملہ (complement) ہے۔ اس تخلیقی منصوبے کے مطابق، کرۂ ارض ( planet earth) کی حیثیت ایک وقتی نرسری (nursery) کی ہے، اور دوسری دنیا کی حیثیت ایک ابدی باغ (eternal garden) کی، جس کو معروف طور پر جنت (paradise) کہا جاتا ہے۔ خلاصۂ کلام قرآن میں جنت کی تخلیق کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (3:133)۔ یعنی، جنت اہلِ تقویٰ کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ (32:17)۔ یعنی، کسی کو نہیں معلوم کہ اُن کے لیے اُن کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے، وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، پہلے جنت کی دنیا بنائی۔ اس کے بعد اہلِ جنت کا انتخاب کرنے کے لیے موجودہ سیارۂ ارض کو بنایا، جو کہ دراصل جنت کی ابدی دنیا کے لیے ایک عارضی نرسری کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس عارضی نرسری میں عورت اور مرد محدود مدت کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں۔ منصوبۂ تخلیق کے مطابق، جب انسانوں کی تعداد پوری ہو جائے گی، اُس وقت سیارۂ ارض پر قیامت کا زلزلہ آئے گا اور اس کی موجودہ حیثیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انسان کو موجودہ دنیا میں بسنے کے لیے صرف محدود وقت ملتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی عمر کا اوسط تقریباً 70 سال ہے۔ اس مدت میں جو افراد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں، اُن کو موت کے بعد لے جا کر جنت کی دنیا میں آباد کر دیا جاتا ہے اور جو عورت یا مرد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر میں ناکام رہتے ہیں، اُن کو ”خبیث پودے“ کی مانند اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ زمین کی صورت میں جو نرسری بنائی گئی ہے، وہ صرف عارضی مدت کے لیے ہے، اور جنت کی صورت میں جو معیاری دنیا بنائی گئی ہے، وہ ابدی ہے، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page