زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 701
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ انسانوں کی بڑی اکثریت نے اس تخلیقی حکمت کو نظر انداز کیا، انھوں نے اپنے آپ کو آخرت کے اعتبار سے نہیں بنایا، وہ موجودہ دنیا کی ظاہری چیزوں میں پھنس کر رہ گئے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ ھُؤُلَاءِ يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَآءھُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا (76:27)۔ یعنی، یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں اور انھوں نے چھوڑ رکھا ہے اپنے پیچھے ایک بھاری دن کو۔ تاریخ کا تجربہ تاریخ کے ہر دور میں تمام سوچنے والے انسان ایک ہی آبسیشن (obsession) میں مبتلا رہے ہیں۔ موجودہ دنیا کو کس طرح بہتر دنیا بنایا جائے۔ ہر دور کے انسانوں کا یہ ایک مشترک خواب رہا ہے۔ مذہبی لوگ اپنے اس خواب کے لیے صالح نظام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور سیکولر لوگ اس کو آئیڈیل سسٹم کا نام دیتے ہیں۔ تاریخ میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، خواہ وہ فکشن ہو یا نان فکشن، تقریباً ان سب کا خلاصہ یہی ہے۔ کوئی کتاب براہ راست طور پر اس موضوع پر لکھی گئی ہے اور کوئی کتاب بالواسطہ طور پر اس موضوع سے متعلق ہے۔ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ تاریخ کی تمام سرگرمیوں کا نشانہ (goal) عملاً یہی ایک تھا۔ مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس سلسلے کی تمام انسانی سرگرمیاں نتیجے کے اعتبار سے، ناکام ہو کر رہ گئیں، کوئی بھی کوشش اپنے مطلوب نشانے تک نہیں پہنچی، نہ سیکولر لوگ اپنا مفروضہ آئیڈیل سسٹم بنا سکے اور نہ مذہبی لوگ اپنا مذکورہ صالح نظام بنانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنا خود انسان کے وجود کی معنویت کو معلوم کرنا ہے اور بلاشبہ اس سے بڑی کوئی دریافت (discovery) نہیں ہو سکتی کہ انسانی وجود کی معنویت کو حقیقی طور پر دریافت کیا جائے۔ سیکولر مفکرین اور مذہبی مصلحین کی اس عمومی ناکامی کا سبب یہ ہے کہ ان کا منصوبہ خالق کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور جو منصوبہ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق نہ ہو، اس کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ خالق کے منصوبے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader