زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 705
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی اس آیت میں ایک خصوصی واقعے کے حوالے سے ایک عمومی قانون کو بتایا گیا ہے۔ اس قانون کا اشاراتی ذکر آیت کے ان الفاظ میں ہے: وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا (30:9)۔ یعنی، اور اس کو اس سے زیادہ آباد کیا جتنا انہوں نے آباد کیا ہے۔ عمومی انطباق کے اعتبار سے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر دور میں اپنی بڑھی ہوئی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی زندگی کی مادی تعمیر کرتا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے ارتقائی طور پر جو محسوس واقعہ ظہور میں آیا، اسی کا نام مادی تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں سرگرمیوں کا دوسرا کلچر جو فرد کی سطح پر جاری رہا، وہی وہ واقعہ ہے جس کو ہم نے روحانی تہذیب کا نام دیا ہے۔ جس طرح مادی تہذیب کا تسلسل تاریخ میں برابر جاری رہا اور جس کا اشارہ قرآن کی مذکورہ آیت میں موجود ہے، اسی طرح روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل بھی تاریخ میں برابر جاری رہا ہے۔ روحانی تہذیب کے تسلسل کا اشاراتی حوالہ قرآن کی سورۃ المومنون کے ان الفاظ میں ملتا ہے: ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا (23:44) یعنی پھر ہم نے لگتا تاراپنے رسول بھیجے: We sent Our messengers in succession. خدا کے پیغمبر ہر دور میں مسلسل آتے رہے اور ان کی تعلیم و تلقین کے ذریعے تاریخ میں روحانی تہذیب کا غیر مرئی تسلسل قائم رہا۔ مادی تہذیب کا تسلسل اگر اجتماعی سطح پر دکھائی دینے والے مظاہر کی صورت میں قائم رہا تو روحانی تہذیب کا تسلسل افراد کے اندر غیر مرئی احوال کی صورت میں جاری رہا۔ برطانی مورخ آرنلڈ ٹائن بی (وفات 1975) نے 21 بڑی تہذیبوں کا مطالعہ کیا جن کی مدت تقریباً 5 ہزار سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مطالعے کے نتائج کو اس نے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے جو 12 جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Arnold Toynbee, The Study of History

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader