Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 706

By Maulana Wahiduddin Khan

مادی تہذیب کے بارے میں اس طرح کی کتابیں اور اس طرح کے مقالات بڑی تعداد میں شائع ہوئے ہیں ، مادی تہذیب کے تاریخی آثار (monuments) زمین کے مختلف حصوں میں موجود ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی کا اہم مرکز ہیں ۔ مادی تہذیب کو پروجیکٹ کرنے کے لیے بڑے بڑے میوزیم بنائے گئے ہیں۔ بڑے بڑے ادارے، بڑی بڑی تنظیمیں اور بڑے بڑے شہر گویا اُن کے تعارفی مراکز ہیں ۔ ان مراکز کو دیکھ کر لوگ کہہ پڑتے ہیں ۔ ونڈر فل، ونڈر فل (wonderful, wonderful)۔ اسی طرح روحانی تہذیب کے واقعات بھی متوازی طور پر موجود ہیں جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے، مادی تہذیب سے بہت زیادہ بڑے ہیں۔ یہ واقعات پوری تاریخ میں مسلسل طور پر پیش آتے رہے ہیں، لیکن ان واقعات کے محسوس مظاہر کہیں موجود نہیں، اس لیے لوگ اُن سے واقف نہیں۔ روحانی تہذیب کے واقعات ہمیشہ افراد کی سطح پر ان کی داخلی دنیا میں غیر مرئی طور پر پیش آتے ہیں۔ یہ افراد اگرچہ انسانی تاریخ کے اعلیٰ ترین افراد ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنی طبعی عمر پوری کر کے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ ان کی پیدا کردہ روحانی تہذیب کو نہ ان کی زندگی میں لوگ دیکھ پاتے اور نہ ان کی وفات کے بعد۔ اسپرپچول تہذیب کے اجزا مصر کے بادشاہوں نے 2700-2300 قبل مسیح کے درمیان مصر میں بڑی بڑی سنگی عمارتیں بنائیں جو اہرام (pyramids) کے نام سے مشہور ہیں۔ ہندوستان کے بادشاہ شاہ جہاں نے 1630-48 عیسوی کے درمیان آگرہ (یوپی) میں تاج محل بنوایا۔ اس طرح کی ہزاروں عمارتیں ہیں جو مادی تہذیب کے تاریخی مظاہر کے طور پر دنیا کے مختلف ملکوں میں دکھائی دیتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اسپرپچول تہذیب کے تحت جو واقعات ظہور میں آئے، اُن کا ریکارڈ کہاں ہے۔ کیا وہ اسی لیے تھے کہ وقتی ظہور کے بعد وہ معدوم ہو جائیں اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ یہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا سوال ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page