Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 733

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ امتحان کے ختم ہوتے ہی ان کی مطلوبیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ طالب علم کو یہ اسباب صرف امتحان کے سامان کے طور پر دیے جاتے ہیں، نہ کہ ذاتی انعام کے طور پر۔ اس لیے امتحان کے ختم ہوتے ہی طالبِ علم سے یہ تمام اسباب چھن جاتے ہیں۔ اس معاملے میں خدا کے تخلیقی پلان کا ایک اور پہلو وہ ہے جو قرآن کی سورۂ نمبر 8 میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ (8:42) ۔ یعنی، جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ حجت کے ساتھ ہلاک ہو اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ حجت کے ساتھ زندہ رہے۔ اس قانونِ الہی کا ایک پہلو وہ ہے جو قیامت سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قیامت جب آئے گی تو وہ براہِ راست خدائی فیصلے کے تحت آئے گی، لیکن انسانی معاملات میں خدا اپنا فیصلہ پُراسرار بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ اس طرح کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو پوری طرح معقول اور جائز (justified) معلوم ہو۔ حالات بتاتے ہیں کہ، قرآن کے الفاظ میں، آنے والی گھڑی بالکل قریب آچکی ہے، اور کوئی اس کو ٹالنے والا نہیں (53:57-58) ۔ اس معاملے کی پہلی علامت وہ تھی جس کو پری فائنل وارنگ (pre-final warning) کہا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ 1991 میں کمیونسٹ ایمپائر کے ٹوٹنے کی صورت میں پیش آیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، 1917 میں سوویت روس قائم ہوا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیش آئے کہ اس کو غیر معمولی توسیع و ترقی ہوئی۔ یہاں تک کہ 1957 میں سوویت روس نے پہلا راکٹ (Sputnik) خلا میں بھیجا، تو اس کو عالمی سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ لیکن سوویت یونین، یا کمیونسٹ ایمپائر کی آئیڈیالوجی میں آغاز ہی سے ایک ایسی چیز شامل تھی جو خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو لازمی طور پر آزادیِ انتخاب (freedom of choice) عطا کیا ہے۔ کیوں کہ آزادی کے بغیر ٹیسٹ (امتحان) ممکن نہیں۔ لیکن کمیونسٹ ایمپائر نے خود ساختہ نظریے کے تحت، اپنے علاقے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page