زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 734
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہبی آزادی کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ کسی بھی قسم کی مذہبی سرگرمی اس کے اندر خلاف قانون قرار پا گئی۔ حکومتی سطح پر ریلیجی بلجس ڈپارٹمنٹ قائم ہوا۔ اس کا کام یہ تھا کہ کمیونسٹ ایمپائر کے اندر وہ ہر قسم کی مذہبی سرگرمی کو کچل کر ختم کر دے۔ یہ بات واضح طور پر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھی ، اور اِس قسم کی کوئی چیز خدا کے نزدیک قابل قبول نہیں ہو سکتی جو خدا کے تخلیقی پلان کی منسوخی کے ہم معنی ہو۔ چنانچہ سوویت یونین میں ایسے حالات پیدا ہوئے کہ 1991 میں سوویت یونین کا سیاسی محل تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر ختم ہو گیا۔ یہ گویا کہ مادی تہذیب کے فائنل خاتمہ سے پہلے دیا جانے والا ایک خدائی انتباہ (divine warning) تھا۔ لیکن اس کے بعد بھی انسان نے اس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ اس کے بعد بھی اُس نے ایسی سرگرمیاں جاری رکھیں جو خدا کے تخلیقی پلان سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق ، انسان کے لیے دو نہایت اہم چیزوں کا انتظام کیا ہے ۔ ان میں سے ایک کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ اِسی طرح دوسرے کو مارل سپورٹ سسٹم (moral support system) کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں انسان نے ان دونوں فطری نظاموں کو ناقابل تلافی حد تک تباہ کر دیا ہے اور اِس طرح اُس نے اِس کا جواز (justification) کھودیا ہے کہ اس کو سیارہ زمین پر مزید باقی رکھا جائے۔ کیوں کہ انسان کو زمین کے فطری نظام کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام کرنا تھا ، اس کو یہ رائٹ نہیں تھا کہ وہ زمین کے فطری نظام کو تباہ کر ڈالے۔ لائف سپورٹ سسٹم خدا نے جب سیارہ زمین پر انسان کو بسایا، تو یہاں اُس نے وہ تمام مادی سامان مہیا کیے جو انسان جیسی مخلوق کی زندگی اور بقا کے لیے ضروری ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی، روشنی اور غذا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں ان انتظامات کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader