Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

معنویت اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ سائنس داں کو فطرت کے اس نظام کے اندر ایک پر اسرار قسم کی طاقت کارفرما نظر آتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں پاتا کہ وہ اس کی توجیہہ کر سکے۔ اس کے باوجود وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس پر اسرار احساس کو مشہور جرمن سائنس داں آئن اسٹائن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے - ایک شخص جو فطرت کا مطالعہ کرے، اُس کا سب سے زیادہ خوب صورت تجربہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت میں گہری پر اسراریت ہے۔ تم مشکل سے کوئی ایسا آدمی پاؤ گے جو گہرا سائنسی ذہن رکھتا ہو، پھر بھی وہ مذہبی احساسات سے خالی ہو: The most beautiful experience one may enjoy is a 'sense of mystery; you will hardly find one among the profounder sort of scientific minds without a 'religious feeling' (The Times of India, New Delhi, April 5, 2008, p. 20. Quoted by, Andrew Whitaker, Professor of Physics at Queen's University, Belfast, Ireland.) سائنس داں فطرت میں اپنے اس تجربے کو کاسمک ریلیجن (cosmic religion) سے تعبیر کرتے ہیں۔ تاہم سائنس داں عام طور پر خدا (God) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ شخصی خدا (personal God) کے تصور کو ماننا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ شخصی خدا کے ساتھ اتھارتی (authority) کا تصور جڑا ہوا ہے، اور اتھارتی کے ساتھ انعام اور سزا کا تصور، اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی سائنس داں، یا جدید ذہن ماننے کے لیے تیار نہیں۔ سائنس داں فطرت کے مطالعہ کے دوران ایک حیرت انگیز قسم کے پر اسرار احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کو ایک احساسِ استعجاب (sense of awe) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ یہی احساس کسی سائنس داں کے لیے سب سے بڑی داخلی طاقت ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کے ایک سوانح نگار نے اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں - آئن اسٹائن اس کو کاسمک ریلیجن کہتا ہے۔ فطرت کے نظام میں حیران گُن انضباط کی موجودگی، سائنس داں کے لیے ایک ایسا سوال بنی ہوئی ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page