کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
جو اس کو مذہب جیسی ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہے: He called it 'cosmic religion' and it was a sense of awe at the nobility and marvelous order which are reflected in nature and in the world of thought. He believed that throughout history, the greatest religious geniuses have followed cosmic religion, and that exploring this order in the laws of science was the motivation for the most celebrated scientists such as Newton and Kepler. Without this feeling of confidence in order and simplicity, science, he felt degenerated into uninspired empiricism. سائنس، نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں سائنس خدا کی تخلیق کا مطالعہ کرتی ہے ۔ اس مطالعے میں فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ تخلیقی قوانین میں خالق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ سائنس داں کا موضوع اگر چہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ ہے، لیکن فطرت کو اس کے فاطر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فطرت کے مطالعے کا بالواسطہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں، فطرت کی دریافت کے ساتھ فاطر کے بہت قریب آ جاتا ہے۔ تقریباً تمام سائنس دانوں نے بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727) اور کیپلر (وفات 1630) نے اس ہستی کو آرڈر (order) کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد اسپینوزا (وفات 1677) اور آئن اسٹائن (وفات 1955) نے اس کو کا سمک اسپرٹ (cosmic spirit) بتایا۔ اس کے بعد سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات 1944) اور سرجیمز جینز (وفات 1946) نے اس کو ریاضیاتی مائنڈ (mathematical mind) کا نام دیا۔ تاہم غالباً کسی بھی سائنس داں نے اس خالق کا اعتراف خدا یا پرسنل گاڈ (personal God) کے الفاظ میں نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنس دانوں نے خدا کے وجود کا اعتراف بالواسطہ انداز میں تو ضرور کیا، لیکن براہ راست انداز میں خدا کے وجود کا کھلا اعتراف ابھی تک سائنٹفک کمیونٹی کی طرف سے نہیں آیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader