Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 744

By Maulana Wahiduddin Khan

بارمیٹیر یل ازم نے نظریاتی طور پر ایک مبّر ریڈ میٹریل ازم ( ideologically justified materialism) کی صورت اختیار کرلی ہے۔ یہ بلاشبہ برائی کا آخری درجہ ہے، اس کے آگے برائی کا کوئی اور درجہ نہیں ہوسکتا۔ یہ صورت حال سرتا سر خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان نے اب اس کا حق کھودیا ہے کہ اُس کو موجودہ زمین پر مزید بسنے اور آباد رہنے کا موقع دیا جائے ۔ مسیح کے الفاظ میں ــ کسان درانتی اٹھاتا ہے، کیوں کہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ بیسویں صدی عیسوی کے رُبع آخر میں خدا کے اس فیصلے کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوئیں، اور اکیسویں صدی کے شروع ہوتے ہی ایسے آثار ظاہر ہونے لگے جو یہ بتاتے تھے کہ اب انسان کے لیے بالکل آخری وقت آپہنچا ہے، اب اُس کو مزید مہلت ملنے والی نہیں۔ جون 2008 میں، جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں، انسانی تاریخ کے خاتمہ کی یہ علامت ایک مسلمہ سائنسی واقعہ کی حیثیت اختیار کر کے روزانہ کی ایک خبر بن چکی ہے۔ آپ ہر دن میڈیا میں اس سے متعلق کوئی نہ کوئی خبر پاسکتے ہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک تازہ سائنسی خبر درج کی جاتی ہے۔ امریکہ کے مشہور سائنسی ادارہ ناسی (NASA) کے ممتاز سائنس داں جیمس ہانسین (James Hansen) نے بیس سال پہلے سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا تھا۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ سائنسی مطالعے کے بعد گلوبل وارمنگ کے سنگین خطرے کا اعلان کیا ہے۔ اب انھوں نے مزید تحقیق کے بعد دوبارہ بتایا ہے کہ۔ حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ دنیا کے لیے واحد امید یہ ہے کہ ذمے داروں کی طرف سے نہایت سخت قسم کے انقلابی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page