زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 743
By Maulana Wahiduddin Khan
بنائی ہے، اور خدا نے یہ دنیا انسان کو صرف ایک مقصد کے تحت عطا کی ہے، اور وہ یہ کہ یہاں کے حالات میں رکھ کر یہ دیکھا جائے کہ انسانوں میں سے کون ہے جو مطلوب خدائی معیار پر پورا اترا، تا کہ اس کا انتخاب (selection) کر کے اُس کو ابدی طور پر جنت کی معیاری دنیا میں بسایا جائے اور باقی لوگوں کو رد کر کے ان کو عالمی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے۔ آدم کی پیدائش کے بعد سے اب تک پورے سیارہ زمین پر یہی عمل جاری رہا ہے۔ اس دنیا میں انسان کی آبادکاری کا یہی واحد مقصد تھا، اس کے سوا دوسرا کوئی مقصد نہیں جس کے لیے انسان کو اس دنیا میں رہنے اور بسنے کا موقع دیا جائے۔ اب انسان کی تاریخ اکیسویں صدی عیسوی میں پہنچ چکی ہے، اور بظاہر حالات بتاتے ہیں کہ اب یہ مقصد آخری حد تک پورا ہو گیا ہے۔ اب انتخاب کا عمل اپنے نقطہ انتہا (culmination) کو پہنچ چکا ہے۔ اب انتخاب کی اس فہرست میں مزید کسی اضافے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ موجودہ زمانے میں جب فطرت کے خزانوں کا انکشاف ہوا، تو اس کے بعد یہ ہونا چاہیے تھا کہ انسان اور بھی زیادہ اضافے کے ساتھ خدا کا اعتراف کرے، انسان اور زیادہ خدا پرست بن کر خدا کی انتخابی فہرست میں نمایاں جگہ پائے، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ انسان سرکشی کے راستے پر چل پڑا۔ اپنی ذمے داریوں کو ادا کرنے کے بجائے، وہ اپنے لیے خود اسی دنیا میں راحت اور عیش کا محل تعمیر کرنے میں مصروف ہو گیا۔ آج کی دنیا میں لوگوں کی سوچ کیا ہے، اُس کا اگر خلاصہ کیا جائے، تو وہ صرف ایک ہے ـــ آج اور صرف آج (right here, right now) یعنی کل کو نظر انداز کر کے صرف آج میں جینا، اور آج کی دنیا میں خوشی اور راحت کی زندگی حاصل کرنا، کیوں کہ اس کے آگے کچھ اور نہیں۔ یہی آج کی دنیا میں ہر عورت اور مرد کا کلمہ ہے، خواہ اس نے لفظوں میں اس کا اعلان کیا ہو، یا اس نے لفظوں میں اس کا اعلان نہ کیا ہو۔ اس طرح، موجودہ زمانے میں پہلی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader