Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 75

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس کے دو بڑے شعبے ہیں ۔ نظریاتی سائنس (theoretical science) اور عملی سائنس (practical science) ۔ خدا کا موضوع نظریاتی سائنس سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس معاملے میں بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہنچ کر نظریاتی سائنس میں تحقیق کا کام تقریباً ختم ہو گیا ۔ اب صرف انطباقی سائنس (applied science) کے میدان میں تحقیق کا کام ہونے لگا ۔ کیوں کہ انطباقی سائنس میں مادی مفاد (material interest) بہت زیادہ شامل ہو گیا ۔ نظریاتی سائنس کے میدان میں مزید بڑا کام کرنے کے لیے نہایت اعلیٰ دماغ درکار ہے ۔ صرف ڈگری یافتہ لوگ ایسا نہیں کر سکتے ۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا بڑا سائنسی دماغ صرف ایک ہے ، اور وہ برطانیہ کا اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے نظریاتی سائنس کے میدان میں عملاً بھی کچھ بڑے کام کیے ہیں ۔ مثلاً سنگل اسٹرنگ تھیوری (Single String Theory) جو توحید کے نظریے کو اصولی طور پر ثابت کرتی ہے ۔ لیکن نظریاتی سائنس کے میدان میں کام کرنے کے لیے اعلیٰ سائنس دانوں کی ایک پوری جماعت درکار ہے ۔ اور بدقسمتی سے آج ایسی جماعت موجود نہیں۔ جدید سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تدرجی طور پر سائنس اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس داں کا ئنات میں دماغ (mind) جیسے کسی عنصر کی کارفرمائی تسلیم کرتے ہیں ۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہو گا کہ دماغ کو ماننا بالواسطہ طور پر خدا کو ماننے کے ہم معنی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس بالواسطہ سائنس کو براہِ راست سائنسی اقرار کے درجے تک پہنچایا جائے ۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی اور فکری کام ہے ۔ یہ کام کوئی اعلیٰ سائنسی دماغ ہی کر سکتا ہے ۔ یہ کام صرف وہ شخص انجام دے گا جو اعلیٰ ریاضیات (higher mathematics) کی زبان میں اس کو انجام دے سکتا ہو ۔ شاید یہ کام ڈاکٹر عبد السلام (وفات 1996) انجام دے سکتے تھے ، جن کو 1979 میں سائنس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے تعصبانہ مزاج کی بنا پر یہ امکان واقعہ نہ بن سکا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page