Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

اس وسیع عالم نجوم کو انسان اپنی فطری آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اللہ تعالی نے ہماری دنیا میں ایسے مادی اسباب رکھ دیے جن کو انسان دریافت کرے اور ان کو ترقی دے کر طاقت ور دوربین (telescope) بنائے۔ چنانچہ موجودہ زمانے میں خلائی دوربین کو استعمال کرکے انسان بے شمار ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتا ہے۔ سمندروں (اور حیوانات) کے معاملے میں تسخیر کا مطلب یہ تھا کہ انسان قانون فطرت کو جانے اور اس کی مدد سے ان چیزوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرے۔ عالم نجوم کے معاملے میں تسخیر کا مطلب اُن کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وسیع عالم نجوم کو انسان آلات کی مدد سے دیکھے، وہ ان پر غور وفکر کرے۔ وہ غور و فکر کے ذریعے عالم نجوم کو اعلی معرفت کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ سمندروں اور حیوانات کی تسخیر انسان کی خدمت کے لیے ہے۔ اور عالم نجوم کی تسخیر اس لیے ہے کہ ان کے ذریعے سے آدمی خالق کی عظمت کو دریافت کرے۔ وہ اُن میں غور و فکر کر کے اپنے لیے معرفتِ اعلی کا رزق حاصل کرے۔ گرہن ایک خدائی معجزہ گرہن (eclipse) ایک فلکیاتی ظاہر ہے ۔ ایکپس (eclipse) کا لفظ قدیم یونانی زبان کے لفظ (ékleipsis) سے ماخوذ ہے۔ خلا میں گرہن کے مختلف واقعات ہوتے رہتے ہیں، لیکن معروف طور پر دو قسم کے گرہن کو گرہن کہا جاتا ہے۔ ایک سورج گرہن (Solar eclipse) اور دوسرا چاند گرہن (Lunar eclipse) ۔ عام طور پر سورج گرہن سال میں دو بار یا تین بار ہوتا ہے اور چاند گرہن سال میں دو بار واقع ہوتا ہے ۔ چاند گرہن چند گھنٹوں تک رہتا ہے، جب کہ کامل سورج گرہن کچھ منٹ تک رہتا ہے : A lunar elicpse lasts for a few hours, whereas a total solar eclipse lasts for only a few minutes at any given place.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page