Urdu book · اظہارِ دین

کائناتى معنویت کی توجیہ

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

گرہن کا یہ واقعہ محکمہ فلکیاتی قانون کے تحت پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت پہلے ان کی قطعی پیشین گوئی کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر 2010 میں 15 جنوری کو سورج گرہن ہوا۔ علماء فلکیات کی پیشگی خبر کے مطابق، پہلے سے لوگوں کو اس گرہن کا علم تھا۔ گرہن کیا ہے۔ گرہن دراصل سایہ پڑ جانے کا دوسرا نام ہے۔ گردش کے دوران جب چاند، زمین اور سورج کے درمیان آجاتے تو سورج اس آڑ کی بنا پر جزئی یا کلی طور پر دکھائی نہیں دے گا۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے۔ اور جب زمین، چاند اور سورج کے درمیان آجاۓ تو چاند پر جزئی یا کلی طور پر زمین کا سایہ پڑ جائے گا۔ اسی کا نام چاند گرہن ہے: Eclipse: In astronomy, partial or complete obscuring of one celestial body by another as viewed from a fixed point. Solar eclipses occur when shadow of Moon falls on Earth, which happens two or three times per year. Lunar eclipses occur when shadow of Earth falls on Moon; at most two seen per year. قدیم زمانے میں گرہن کے بارے میں عجیب قسم کے توہماتی عقائد قائم تھے۔ مثلاً کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ آسمان میں ایک بہت بڑا اژدھا ہے، وہ کبھی غصہ ہو کر چاند کو نگل لیتا ہے، اس وقت چاند گرہن پڑتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ زمین پر جب کسی بادشاہ یا کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے سورج پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی کا نام سورج گرہن ہے، وغیرہ۔ اس قسم کے توہماتی تصورات ہزاروں سال تک قوموں میں رائج تھے، یہاں تک کہ دوربین (telescope) ایجاد ہوئی۔ گلیلیو نے پہلی بار 1609 میں دوربین کے ذریعہ سیاراتی نظام (planetary system) کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دوربین کو ترقی ہوئی اور مزید مشاہدات کیے گئے۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کا تعلق مذکورہ قسم کے توہماتی تصورات سے نہیں ہے، یہ تمام ترا ایک فلکیاتی مظہر ہے۔ وہ صرف اس لیے واقع ہوتا ہے کہ گردش کے دوران دو خلائی اجسام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page