کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اسی لیے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب گرہن واقع ہو تو لوگ خدا کی عبادت کریں۔ اس عبادت کو صلاۃِ کُسوف اور صلاۃِ خُسوف کہا جاتا ہے۔ گرہن کے وقت خدا کی عبادت کرنا اس بات کا اعتراف ہے کہ گرہن ایک خدائی ظاہر ہے، نہ کہ محض ایک فلکیاتی ظاہرہ۔ خدا کا وجود انسان جب رحم مادر (womb) کے خول میں ہوتا ہے، تو اس کو اُس وقت خول کے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اس خول کے باہر ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے، لیکن بچے کو اس کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خود انسان کا بھی ہے۔ انسان کی تمام معلومات زمان و مکان (time and space) کے اندر تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ زمان و مکان کے باہر کی حقیقتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔ برٹش فلسفی جان اسٹوارت مل (وفات 1873) جب نوجوانی کی عمر میں تھا، اُس وقت اس کے باپ جیمس مل (وفات 1836) نے اُس سے کہا کہ خدا کا عقیدہ ایک غیر عقلی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا، تو سوال یہ ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا: If God created man, who created God. یہ بات جان اسٹوارت مل نے اپنی آٹو بائنگر ليفي میں لکھی۔ اس کے بعد اس بات کو برٹرنڈ رسل (وفات 1970) اور جولین ہکسلے (وفات 1975) جیسے فلسفہ دہرانے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ جیمس مل کے تقریباً سوسال بعد 1916 میں البرٹ آئن اسٹائن (وفات 1955) نے نظریہ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اس نظریے کے تحت آئن اسٹائن نے دکھایا کہ اس دنیا میں انسان کا ہر علم اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ انسان کے پاس کوئی مطلق فریم آف ریفرنس موجود نہیں: No absolute frame of reference exists.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader