کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 84
By Maulana Wahiduddin Khan
انتہائی غیر معمولی توافق کی بنا پر سورج اور چاند کا سائز اور دوری ایسے ہو جاتے ہیں کہ زمین سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے گویا کہ دونوں بالکل برابر ہوں : By a remarkable coincidence, the sizes and distances of the Sun and Moon are such that they appear as very nearly the same angular size as the earth. (EPB 6/189) گرہن کے اس عجیب واقعے کو مقالہ نگار نے محض اتفاق (coincidence) قرار دیا ہے۔ مگر یہ بالکل غیر منطقی بات ہے۔ اس قسم کا نادر اتفاق اولاً تو ممکن نہیں اور بالفرض اگر ایسا ہو جائے تو وہ بمشکل ایک بار ہو سکتا ہے، لیکن فلکیاتی تاریخ بتاتی ہے کہ گرہن کا یہ واقعہ لاکھوں برس سے اسی طرح پابندی (regularity) کے ساتھ ہر سال پیش آرہا ہے۔ اس قسم کی کامل باضابطگی ہرگز اتفاقاً نہیں ہو سکتی۔ یقینی طور پر وہ ایک قادر مطلق ہستی کی مسلسل کارفرمائی کے باعث ہی ممکن ہے۔ اتفاق کا لفظ اس حیرت ناک فلکیاتی ظاہر ہے کی توجیہہ کے لیے آخری حد تک ناکافی ہے۔ گرہن، خلا میں پیش آنے والے ان بے شمار معجزاتی واقعات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ (36:38) یعنی، یہ عزیز اور علیم خدا کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے : That is the disposition of the Almighty, the All Knowing. وسیع خلا میں بے شمار اجزا ہیں۔ یہ تمام اجزا مکمل طور پر خداوند عالم کے کنٹرول میں ہیں۔ سیاروں اور ستاروں کی گردش انتہائی حد تک خدا کے مقررہ ضابطہ کی پابندی میں ہوتی ہے۔ شمسی نظام اسی کا ایک نمونہ ہے جس کے اندر ہماری زمین واقع ہے۔ یہ نظام اپنی خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ اس کائنات کا ایک قادر مطلق خدا ہے جو وسیع خلا میں اُن پر کامل کنٹرول کیے ہوئے ہے۔ انھیں معجزاتی واقعات میں سے ایک گرہن کا واقعہ ہے۔ سورج گرہن اور چاند گرہن ہمارے قریبی مشاہدے کی چیزیں ہیں۔ لوگ اُس کو عجوبہ کے طور پر یا زیادہ سے زیادہ ایک فلکیاتی کورس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کے الفاظ میں، وہ خدا کی ایک عظیم نشانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader