Urdu book · اظہارِ دین

اظہارِ دین

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

خالق ہے۔ اُس نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کائنات کو بنایا ہے۔ اُس نے جہاں چاہا، چیزوں میں یکسانیت (uniformity) کا طریقہ اختیار کیا، اور جہاں چاہا، کسی چیز کو دوسری چیزوں سے ممیز اور مستثنیٰ بنا دیا۔ مثلاً زندہ اجسام کے ڈھانچے میں باہم یکسانیت (uniformity) پائی جاتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ہر ایک کا جنیٹک کوڈ (genetic code) ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہرایک کے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں، لیکن ہر ایک کے انگوٹھے کا نشان (thumb impression) ایک دوسرے سے الگ ہے۔ یکسانیت کے درمیان یہ استثنائی یقینی طور پر ایک ذہین تخلیق (intelligent creation) کا ثبوت ہے، نہ کہ اندھے اتفاقات کا نتیجہ۔ بگ بینگ، لٹل بینگ انسان ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہے کہ موجودہ کائنات کیسے بنی۔ وہ عقلی سطح پر اس کا جواب پانا چاہتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پہلی بار انسان کو اس کا عقلی جواب ملا۔ فلکیاتی سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 13 بلین سال پہلے، خلا میں ایک انفجار (explosion) ہوا۔ اس انفجار کو عام طور پر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سائنس کے اعتبار سے، اسی بگ بینگ کے بعد بتدریج موجودہ کائنات وجود میں آئی۔ تاہم ایک سوال کا عقلی جواب ابھی باقی تھا، وہ یہ کہ ہمارا شمسی نظام (solar system) کیسے بنا۔ شمسی نظام، ساری کائنات میں ایک استثنائی نظام ہے۔ اس نظام کے اندر سیارہ زمین ایک انتہائی استثنائی قسم کا سیارہ ہے۔ علماء فلکیات اس بات کی عقلی توجیہ نہیں کر سکے تھے کہ کائنات میں استثنائی قسم کا موجودہ شمسی نظام کیسے بن گیا۔ بگ بینگ کی دریافت کے تقریباً سو سال بعد، اکیسویں صدی کے ربع اول میں، سائنس دانوں نے سوئزر لینڈ میں کچھ خصوصی تجربات کیے۔ ان تجربات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ بگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page