اظہارِ دین
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
بینگ کے واقعے کے بہت خلا میں ایک چھوٹا انفجار ہوا۔ اس کو سائنس دانوں نے لٹل بینگ (Little Bang) کا نام دیا ہے۔ اس لٹل بینگ کے بعد شمسی نظام وجود میں آیا اور بتدریج وہ استثنائی سیارہ بنا جس کو زمین (planet earth) کہا جاتا ہے۔ بگ بینگ اور لٹل بینگ کی یہ دونوں سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ایک اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہوئی۔ یہ کائنات کسی اتفاق (accident) کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ وہ ایک بالقصد منصوبے کے ذریعے وجود میں آئی۔ یہ واقعہ اپنے آپ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کی ایک منزل ہے۔ یہ کائنات پورے معنوں میں ایک بامعنیٰ کائنات ہے، اور ایک بامعنیٰ کائنات کسی بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔ تاریخِ عالم پر ایک تبصرہ سیکولر نظریے کے مطابق، دنیا کی تاریخ چار بڑے ادوار پر مشتمل ہے - بگ بینگ کا واقعہ، مادی ترقیات، تہذیب کی ترقی، خاتمہ تاریخ: Big Bang, material development, civilizational development, abrupt end. سیکولر نظریے کے مطابق، تقریباً پندرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے موجودہ کائنات کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد لمبے ارتقائی عمل کے ذریعے موجودہ مادی دنیا بنی۔ انسان کے ظہور کے بعد تہذیبی ترقی شروع ہوئی۔ اکیسویں صدی عیسوی میں گلوبل وارمنگ (global warming) کا ناقابل حل مسئلہ سامنے آ گیا۔ اور اب تمام سائنس داں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہماری دنیا میں جو طبیعی تغیرات ہو رہے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ 2050 سے پہلے ہی اس دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ موجودہ دنیا کی یہ سیکولر تصویر نا قابلِ فہم حد تک عجیب ہے۔ سیکولر نظریہ بتاتا ہے کہ پچھلے پندرہ بلین سال سے ہماری دنیا میں مسلسل طور پر بامعنیٰ ارتقا جاری رہا ہے، یہاں تک کہ موجودہ کائنات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader