اظہارِ دین
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
بنی، جو انتہائی حد تک بامعنی کائنات تھی۔ اب گلوبل وارمنگ کے ذریعے اگر دنیا کسی مستقبل کے بغیر آخری طور پر فنا ہو جائے تو یہ ایک بامعنی آغاز کا ایک بے معنی انجام ہوگا، جو بلاشبہ عقلی طور پر ناقابل فہم ہے۔ مثال کے طور پر نظریہ ارتقا یہ کہتا ہے کہ انواع حیات کے درمیان بقائے (survival of the fittest) کا عمل جاری رہا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، اسی ارتقائی عمل کا یہ نتیجہ تھا کہ انسان جیسی ایک اعلیٰ نوع وجود میں آئی۔ اب یہ سرتا سر ایک غیر عقلی (irrational) بات ہے کہ بقائے اصلح کا عمل اپنے آخر میں صرف ایک معکوس انجام پر ختم ہو جائے: It is unthinkable that the survival of the fittest may lead to the extinction of the fittest. خود فطرت کا قانون یہ تقاضا کرتا ہے کہ کائناتی پراسس اپنے آخر میں ایک بہتر دنیا کو وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔ سائنس کی گواہی انٹرنیٹ موجودہ زمانے میں معلومات کا عالمی خزانہ ہے۔ انٹرنیٹ کو الیکٹرانک انسائیکلو پیڈیا کہا جا سکتا ہے۔ اگر آپ انٹرنیٹ پر جائیں اور حسب ذیل الفاظ ٹائپ کریں— (Thought-Controlled Wheel Chair) تھاٹ کنٹرولڈ دھیل چئیر تو اسکرین پر معلومات کا ایک صفحہ کھل جائے گا۔ وہ بتائے گا کہ کسی خارجی آلہ کے بغیر دماغ کے ذریعے دھل چئیر کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ دھل چئیر پر بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے ہاتھ کو استعمال کیے بغیر محض اپنے دماغ کے ذریعے دھل چئیر کو اپنی مرضی کے مطابق، جس طرح چاہے چلا سکتا ہے۔ جاپان کی موٹر کمپنی (Toyota (Motors نے یکم جولائی 2009 کو لوگوں کے سامنے اس ٹکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔ یہ واقعہ بتا تا ہے کہ کس طرح خدا اپنی مرضی کے تحت پوری کائنات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ تھاٹ کنٹرولڈ دھل چئیر کا کامیاب مظاہرہ تھاٹ کنٹرولڈ یونی ورس (thought-controlled universe) کا ایک عملی ثبوت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader