یہ اخلاقی بحران کیوں
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے میں بھی جو صورتِ حال عالمی سطح پر پیدا ہوئی، اس کی ذمے داری زیادہ تر مغربی علما پر جاتی ہے۔ یہ دراصل مغربی علما ہی تھے جنھوں نے انسانی فکر کی دنیا میں وہ حالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں ارادی یا غیر ارادی طور پر، وہ صورتِ حال پیدا ہوئی جس کو اخلاقی بحران (moral crisis) کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ نمایاں نام اٹلی کے مشہور سائنس داں گلیلیو (Galileo) کا ہے۔ گلیلیو 1564 میں پیدا ہوا، اور 1642 میں اس کی وفات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو وہ شخص ہے جس نے ماڈرن سائنس کی بنیاد رکھی۔ گلیلیو پہلا شخص ہے جس نے دوربین کے ذریعے ستاروں اور سیاروں کا اور شمسی نظام کا مشاہدہ کیا۔ اگر چہ آخری عمر میں وہ اندھا ہو گیا تھا، لیکن سائنس کے مختلف شعبوں میں اس کی خدمات بہت زیادہ اہم سمجھی جاتی ہیں۔ گلیلیو نے ایک طرف یہ تاریخی کام کیا کہ اس نے میتھ میٹکس اور فزکس کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کیا، جب کہ اس سے پہلے دونوں الگ الگ شعبے بنے ہوئے تھے: Galileo was the first man who perceived that mathematics and physics, previously kept in separate compartments, were going to join forces. (EB, 7/853) گلیلیو کے اس عمل سے فزکس کو بہت ترقی ہوئی۔ لیکن اس ثبت کام کے ساتھ گلیلیو نے ایک ایسا کام بھی کیا، جس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہوئے۔ وہ یہ کہ گلیلیو نے چیزوں کے کمیاتی پہلو (quantitative aspect) کو چیزوں کے کیفیاتی پہلو (qualititative aspect) سے جدا کر دیا۔ اس طرح اس نے سائنس کی تحقیقات کو صرف اُن چیزوں تک محدود کر دیا جو ناپی اور تولی جا سکتی تھیں، دوسری چیزیں اپنی تمام اہمیت کے باوجود سائنسی تحقیق کا موضوع نہ رہیں۔ اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ انسان کے لیے غیر اہم قرار پائیں، کیوں کہ موجودہ زمانے میں فکری اعتبار سے سائنس کا غلبہ ہے۔ آج کا انسان اُنھیں چیزوں کو اہمیت دیتا ہے، جو سائنس کے اعتبار سے اہم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader