Urdu book · اظہارِ دین

یہ اخلاقی بحران کیوں

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

قرار پائیں ۔ اس مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر الیکس کیرل ( وفات 1944 ) نے اپنی کتاب انسانِ نامعلوم (1935 Man the Unknown) میں لکھا ہے: ”یہ غلطی جو ہماری تمام مصیبتوں کی ذمہ دار ہے، گلیلیو کے تولیدی نظریہ (genial idea) کی ایک غلط تعبیر کا نتیجہ ہے۔ گلیلیو نے چیزوں کی ابتدائی صفات کو، جو ابعاد اور وزن پر مشتمل ہیں اور جن کی آسانی سے پیمائش کی جا سکتی ہے، اُن ثانوی صفات سے الگ کر دیا، جو شکل، بُو اور رنگ وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں اور جن کی پیمائش نہیں کی جا سکتی۔ کمیت کو کیفیت سے جُدا کر دیا گیا ہے۔ اس غلطی سے غیر معمولی نتائج پیدا ہوئے ۔ انسان کے اندر وہ چیزیں، جن کی پیمائش نہیں کی جا سکتی، اُن چیزوں سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں جن کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔ مثلاً فکر اور خیال کا وجود اتنا ہی اہم ہے، جتنا خُون ناب (blood serum) کے طبعی کیمیائی توازن کا وجود اہم ہے۔ کمی اور کیفی اشیا کے درمیان یہ فرق اور وسیع ہو گیا، جب ڈیکارٹ نے جسم اور روح کے درمیان فرق کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد سے دماغ کے مظاہر ناقابل تشریح بن گئے۔ مادی اشیا کوروحانی اشیا سے بالکل الگ کر دیا گیا“ (Religion and Science, p. 73)۔ انسانی فکر میں اس تبدیلی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان تعلق ختم ہو گیا، یا صرف رسمی طور پر باقی رہا۔ انسان دنیا میں اِس طرح رہنے لگا، جیسے کہ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں، وہ اپنی قسم کا مالک آپ ہے، اُس کو یہ حق ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے ۔ اسی سے ہیومن ازم (Humanism) کا فلسفہ پیدا ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ۔ خدا کی سیٹ پر اب خود انسان کو قبضہ حاصل ہو گیا ۔ چنانچہ ہیومن ازم کے نظریے کو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے: Transfer of seat from God to man. انسان جب اپنے آپ کو خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے اندر اللہ اکبر کی نفسیات پیدا ہوتی ہے، یعنی ہر قسم کی بڑائی صرف خدا کے لیے ہے۔ میں اُس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز مخلوق کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page