جہیز کے بارے میں
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
جہیز حقیقتہ اسلام کے قانونِ وراثت سے فرار کی تلافی ہے جس کو پڑوسی قوم سے لے کر اختیار کر لیا گیا ہے۔ کچھ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ جہیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی صاحبزادی فاطمہ کا نکاح حضرت علی سے کیا تو ان کو اپنے پاس سے جہیز بھی عطا کیا۔ اس قسم کی بات دراصل غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیا اس کو کسی طرح بھی ”جہیز“ نہیں کہا جا سکتا۔ اور اگر اس کو جہیز کہا جائے تو ساری دنیا میں غالباً کوئی ایک مسلمان بھی نہیں جو اپنی لڑکی کو یہ پیغمبرانہ جہیز دینے کے لیے تیار ہو۔ وہ جہیز کیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو دیا۔ یہاں ہم اس کی روایت نقل کرتے ہیں: جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوَسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرُ (سنن النسائی، حدیث نمبر (3384)۔ یعنی حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ کو جہیز میں ایک چادر، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اذخر گھاس کا بھراؤ تھا۔ واضح ہو کہ حدیث میں جہیز کا لفظ معروف قسم کا جہیز دینے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ضروری چیزوں کا انتظام کرنے کے معنی میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انتظام خود حضرت علی کی رقم پر کیا تھا۔ یہ رقم حضرت علی نے اپنی ایک پرانی زرہ فروخت کر کے آپ کے حوالے کی تھی۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں حضرت فاطمہ کے علاوہ تین اور صاحبزادیاں تھیں جو بڑی ہوئیں اور پھر بیاہی گئیں۔ مگر مذکورہ ”جہیز“ آپ نے صرف حضرت فاطمہ کو دیا۔ بقیہ صاحبزادیوں کو اس قسم کا کوئی جہیز نہیں۔ اگر جہیز فی الواقع آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader