Urdu book · کامیاب خاندانی زندگی

کامیاب خاندانی زندگی

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کا موجودہ سماج جس وحشت و بربریت کی سطح کو پہنچ چکا ہے، اس کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس قسم کے واقعات بتاتے ہیں کہ آج ہم جس سماج میں رہ رہے ہیں وہ خونخوار بھیڑیوں کا سماج ہے، نہ کہ شریف انسانوں کا سماج۔ ایسی حالت میں فرقہ وارانہ فسادات پر چیخ پکار کرنا یا ان کے خلاف مذمت کے بیانات دینا ایک ایسا فعل ہے جو احمقانہ رد عمل کے سوا کسی اور خانہ میں جانے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کسی سمجھ دار آدمی کے لیے بچاؤ کا راستہ صرف ایک ہے۔ وہ انسان نما حیوانوں کے ساتھ اعراض کرے۔ ان کی طرف سے اشتعال انگیزی کا واقعہ پیش آئے تب بھی وہ مشتعل نہ ہو۔ کوئی آدمی حیوان سے نہیں لڑتا۔ حیوان سے اعراض کیا جاتا ہے، نہ کہ جنگ۔ جہیز کے بارے میں شادی میں جہیز دینے کی رسم ہندوستانی مسلمانوں میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ نہ صرف یہ کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ رسم ہندوستان اور پاکستان کے سوا دوسرے مسلم ملکوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ برصغیر ہند کے مسلمانوں میں یہ رسم یقینی طور پر ہندوؤں سے آئی ہے۔ ہندو لوگ اپنے قدیم قانون کے مطابق بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھی، اس کی تلافی کے لیے ان کے یہاں یہ رواج پڑ گیا کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو زیادہ سے زیادہ دیا جائے۔ چنانچہ وہ جہیز کے نام پر بیٹی کو اپنی دولت کا ایک حصہ دینے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی ہندو طریقہ کی تقلید ہندوستان کے مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ اسلام میں اگر چہ لڑکی کو وراثت میں باقاعدہ حصہ دار بنایا گیا ہے۔ مگر مسلمانوں نے عملی طور پر لڑکیوں کو اس شرعی حق سے محروم کر رکھا ہے۔ اس کی تلافی کے لیے انہوں نے اس ہندو طریقہ کو اختیار کر لیا ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی کو کافی سامان دے کر اسے خوش کر دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page